حیدرآباد، انتخابی نظام میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے ، سینیٹر مولابخش چانڈیو

ڈنڈے کے زور پر ایک صوبے میں کامیابی حاصل کرکے دیگر تینوں صوبوں پر حکومت کرنا انتخابی عمل کومشکوک بناتا ہے، رہنماء پاکستان پیپلزپارٹی

جمعرات جولائی 23:35

حیدرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 جولائی2018ء) پاکستان پیپلزپارٹی کے سینیٹر مولابخش چانڈیو نے کہا ہے کہ انتخابی نظام میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے ، ڈنڈے کے زور پر ایک صوبے میں کامیابی حاصل کرکے دیگر تینوں صوبوں پر حکومت کرنا انتخابی عمل کومشکوک بناتا ہے۔ وہ حیدرآباد پریس کلب کے نومنتخب عہدیداروں کے اعزاز میں عرفان گل مگسی کی جانب سے دیئے گئے استقبالیے سے خطاب کررہے تھے۔

اس موقع پر عرفان گل مگسی، پریس کلب حیدرآباد کے صدر ناصر شیخ، جنرل سیکریٹری رئوف چانڈیو اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔ مولابخش چانڈیو نے کہا کہ عمران خان وزیراعظم بننے کے خواہش مند ہیں مگر ان کی باتیں بچوں جیسی کرتے ہیں ۔ عمران خان وزیراعظم بن جائیںگے ان کا زوال شروع ہوجائیگا ، عمران خان وزیراعظم بن جائیں تاکہ یہ روز روز کا عذاب بھی ختم ہو۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ میاں صاحب نے عوام کو غلام بناکر رکھا اور سندھ کو کوئی قابل فخر ترقیاتی منصوبہ نہیں دیا ۔ مولابخش چانڈیو نے کہا کہ گزشتہ حکومت کی جانب سے جاری قومی سلامتی کے منصوبوں کو ختم نہیں کرنا چاہئے کیونکہ ایسا کرنے سے ملکی ترقی کا عمل بھی رک جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاست میں دشمن کو بھی نظرانداز کرنا پڑتا ہے مگر عمران خان ڈھونڈ ڈھونڈ کراپنی دشمنیاں نکالتے ہیں ۔

عمران خان کو وزیراعظم بننے کا شوق ہے لیکن ان میں قائدانہ صلاحیت نہیں، جو اپنی پارٹی کو منظم نہ کرسکے وہ ملک اور قوم کو کیسے ایک ساتھ لے کر چل سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاق ایک صوبے کا نہیں بلکہ چاروں صوبوں کا ہوتا ہے۔ ہم مانتے ہیں کہ ہم سے ماضی میں غلطیاں ہوئی ہیں مگر ہمیں اس بات پر فخر ہے کہ ہم نے غلطی تو کی لیکن غداری نہیں کی۔ ایک خاص طرح کا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جس سے لوگ ڈرے ہوئے ہیں اور ایک دوسرے سے پوچھ رہے ہیں کہ الیکشن ہوں گے یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن ہوں اور پاکستان کا مستقبل اس سے بہتر ہوگا ۔