وزیراعظم عمران خان کوفرانس کےصدرایمانیول میکرون کاٹیلیفون

وزارت اعظمیٰ کا عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد دی ،نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا

Syed Fakhir Abbas سید فاخر عباس جمعہ ستمبر 00:32

وزیراعظم عمران خان کوفرانس کےصدرایمانیول میکرون کاٹیلیفون
اسلام آباد (اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 ستمبر 2018ء) وزیراعظم عمران خان کو فرانس کےصدرایمانیول میکرون کا ٹیلیفون رابطہ ہوا ہے۔فرانسیسی صدر نے وزارت اعظمیٰ کا عہدہ سنبھالنے پروزیر اعظم عمران خان کو مبارکباد دی ،نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا۔تفصیلات کے مطابق عمران خان کو ملک کے 22 ویں وزیر اعظم کے طورپر حلف اٹھائے ہوئے تین ہفتے ہو چکے ہیں تاہم عالمی رہنماوں کی جانب سے انکو مبارکباد دینے کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔

تازہ ترین خبر کے مطابق وزیراعظم عمران خان کو فرانس کےصدرایمانیول میکرون کا ٹیلیفون رابطہ ہوا ہے۔فرانسیسی صدر نے وزارت اعظمیٰ کا عہدہ سنبھالنے پروزیر اعظم عمران خان کو مبارکباد دی ،نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا۔فرانسیسی صدر نے وزیراعظم کو دورہ فرانس کی دعوت بھی دی جبکہ وزیراعظم عمران خان نے بھی فرانسیسی صدر کو دورہ پاکستان کی دعوت دی۔

(جاری ہے)

یاد رہے کہ اس سے پہلے بھی وزیر اعظم کو صحافیوں سے ملاقات کے دوران فرانسیسی صدر کی کال موصول ہونے کی خبر آئی تھی۔ عمران خان پاکستانی میڈیا نمائندوں کے ساتھ ایک ملاقات میں مصروف تھے کہ فرانسیسی صدر نے انہیں فون کیا۔ چونکہ ماکروں کی اس کال کا وقت پہلے سے طے شدہ نہیں تھا، اس لیے عمران خان نے کہا کہ فرانسیسی صدر تیس منٹ بعد فون کریں۔

تاہم بعد ازاں انہیں فرانسیسی صدر کی دوبارہ کال موصول نہیں ہوئی۔ پاکستان کے معروف صحافی اور اینکر پرسن حامد میر نے بھی اپنی ایک ٹویٹ میں اس واقعے کا احوال بیان کیا۔ حامد میر نے ٹویٹ میں لکھا کہ خارجہ سیکرٹری تہمینہ جنجوعہ نے میٹنگ کے دوران ہی بتایا کہ فرانسیسی صدر ان سے بات کرنا چاہتے ہیں اور انہیں یہ کال سن لینا چاہیے۔ تاہم عمران خان نے کہا کہ وہ مصروف ہیں۔

پاکستانی سوشل میڈیا پر بھی اس واقعے پر بحث چھڑ گئی تھی۔ دوسری پیرس میں فرانسیسی وزارت خارجہ نے اس واقعے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ فیس بک اور ٹوئٹر کے متعدد صارفین نے عمران خان کی طرف سے فرانسیسی صدر کی اس ’غیر طے شدہ‘ کال ریسیو نہ کرنے پر اپنے خیالات کا برملا اظہار کیا ہے۔ کئی پاکستانی صارفین نے عمران خان کے اس اقدام کو سراہا بھی جبکہ کئی دیگر کے مطابق وزیر اعظم خان کا یہ رویہ ’نامناسب‘ تھا، جس سے وہ پرہیز بھی کر سکتے تھے۔تاہم بعد میں اس واقعے یا کال کی تصدیق نہ ہوسکی۔