اسلام آباد ہائیکورٹ:نوازشریف کی سزامعطلی کا فیصلہ کل متوقع

نیب پراسیکیوٹرکل دلائل مکمل نہ کیے توتحریری دلائل پرفیصلہ کردیں گے، وکیل خواجہ حارث اورامجد پرویزکے دلائل مکمل،عدالت کا نیب پراسکیوٹرکوکل تک دلائل مکمل کرنے کا حکم

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ منگل ستمبر 18:39

اسلام آباد ہائیکورٹ:نوازشریف کی سزامعطلی کا فیصلہ کل متوقع
اسلام آباد(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔18ستمبر 2018ء) اسلام آباد ہائیکورٹ میں سابق وزیراعظم نوازشریف، مریم نواز اور کیپٹن ر صفدر کی درخواستوں پرایون فیلڈ ریفرنس میں سزا معطلی کا فیصلہ سنایا جائے گا، عدالت نے آج کی کاروائی کے تحریری حکم نامے میں واضح کیا ہے کہ نیب پراسکیوٹرکل تک اپنے دلائل مکمل کرے، اگر دلائل مکمل نہ کیے گئے تو کل فیصلہ سنا دیں گے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایون فیلڈ ریفرنس میں سابق وزیراعظم نوازشریف، مریم نواز اور کیپٹن ر صفدر کی سزا معطلی کی درخواستوں پر آج ہونے والی کاروائی کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا ہے۔ حکم نامے کے مطابق نیب پراسیکیوٹرنے دلائل مکمل کرنے کے لیے کل تک مہلت مانگی ہے۔ نیب پراسکیوٹر کل اپنے دلائل مکمل کریں۔

(جاری ہے)

نیب پراسیکیوٹر نے کل دلائل مکمل نہ کیے توتحریری دلائل پرفیصلہ کردیں گے۔

حکم نامے میں مزید کہا گیا کہ درخواست گزاروں کے وکیل خواجہ حارث اورامجد پرویز پہلے ہی دلائل مکمل کرچکے ہیں۔ واضح رہے اسلام آباد ہائیکورٹ میں جسٹس اطہرمن اللہ اورجسٹس گل حسن اورنگزیب نے سابق وزیراعظم نوازشریف، مریم نواز اور کیپٹن ر صفدر کی ضمانت کی درخواستوں پرسماعت کی۔ دوسری جانب سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) محمد صفدر کی لندن میں واقع ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کے حوالے سے زیر سماعت کیس میں احتساب عدالت کی جانب سے سنائی گئی سزا کی معطلی کیلئے دائر درخواستیں پہلے سننے کیخلاف نیب کی درخواست مسترد کرتے ہوئے نیب کو 20 ہزار روپے جرمانہ کردیا ہے۔

اورواضح کیا ہے کہ نیب پرعائد جرمانہ ڈیم فنڈ میں جمع کروایا جائے گا۔ پیرکوچیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے نیب کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کی۔ نیب نے درخواست میں موقف اختیارکیا تھا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ شریف خاندان کی سزا معطلی کیلئے دائر درخواستیں پہلے سن رہی ہے جبکہ سزاؤں کے خلاف نیب کی اپیلیں نہیں سن رہی۔

جس پر عدالت نے نیب کو 20 ہزار روپے جرمانہ کرتے ہوئے کہا کہ نیب کو آئندہ غیرسنجیدہ اپیلیں کرتے ہوئے محتاط رہنا چاہئے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہائیکورٹ نے بہتر سمجھا ہوگا کہ کون سی درخواستوںکو پہلے سننا چاہیے اورکونسی بعد میں، اگر عدالت اس معاملے میں کوئی حکم جاری کر دے یا سزا معطل کردے تو اس کے خلاف اپیل لائی جا سکتی ہے لیکن یہ درخواست قبل ازوقت ہے۔