شیخ رشید کا لاہور میں قائم محکمے کے ہیڈ کوارٹر کو تقسیم کر کے بڑے حصے کو کراچی منتقل کرنے کا اعلان

کراچی معاشی طور پر ریلوے کی شہ رگ ہے ،آئندہ ماہ مزید تین نئی ٹرینیں چلائی جائینگی ،ایم ایل Iچین پاکستان اقتصادی راہداری کا حصہ ہے لیکن ایم ایل IIکو نجی شراکت داری کیلئے پیش کر رہے ہیں ،حکومت کے قیام کے 120روز میں فریٹ ٹرینوں کی تعداد 15تک لیجانے کا ہدف ہے سرمایہ کاری کے مواقع کے عنوان سے اہم کمیٹی قائم کر دی ، تمام ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز میں ریزرویشن دفاتر کے اوقات 4گھنٹے بڑھا دیئے‘وزیر ریلویز

ہفتہ ستمبر 15:10

اہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 ستمبر2018ء) وفاقی وزیر ریلویز شیخ رشید احمد نے لاہور میں قائم محکمے کے ہیڈ کوارٹر کو تقسیم کر کے بڑے حصے کو کراچی منتقل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی معاشی طور پر ریلوے کی شہ رگ ہے ،آئندہ ماہ مزید تین نئی ٹرینیں چلائی جائیں گی ،ایم ایل Iچین پاکستان اقتصادی راہداری کا حصہ ہے لیکن ایم ایل IIکو نجی شراکت داری کیلئے پیش کر رہے ہیں ،حکومت کے قیام کے 120روز میں فریٹ ٹرینوں کی تعداد 15تک لیجانے کا ہدف ہے ،سرمایہ کاری کے مواقع کے عنوان سے اہم کمیٹی قائم کر دی ہے جس کا ہر جمعرات کو اجلاس ہوگا اور سرمایہ کار براہ راست ریلوے ہیڈ کواٹرز آ سکتے ہیں ، تمام ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز میں ریزرویشن دفاتر کے اوقات کار رات آٹھ بجے سے بڑھا کر رات 12بجے تک کر دئیے گئے ہیں اور اسے انشا اللہ چوبیس گھنٹے پر لے کر آئیں گے۔

(جاری ہے)

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ریلویز ہیڈ کوارٹر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا ۔ شیخ رشید احمد نے کہا کہ آئندہ ماہ مزید تین نئی ٹرینیں چلانے جارہے ہیں، پہلی ٹرین کا آغاز 8اکتوبر دوپہر اڑھائی بجے ہوگا جو لاہور سے فیصل آباد اور فیصل آباد سے لاہور نان سٹاپ چلے گی،اس کے ساتھ 16اکتوبر کو موہنجو داڑو اور روہی سے ٹرینیں چلائیں جائیں گی یہ وہ علاقہ ہیں جہاں سواری کی قلت ہے اور لوگوں کو آمد ورفت میں مشکلات کا سامنا ہے،حضور اکرم ﷺکا بھی فرمان ہے کہ سواری کو سہولت دینا بھی ایک نیکی ہے ،اللہ پاک نے اگر چاہا تو 16 دسمبر تک ریلوے کا ایک جال بچھا دیں گے ۔

انہوں نے کہا کہ عوام النا س کی خواہش پر تمام ہیڈ کواٹرز کے ریزرویشن آفس کے اوقات کار میں چار گھنٹے کی تو سیع کر دگئی ہے ، اب تمام ریزرویشن آفس رات 12بجے تک کھلے ریں گے جنہیں 30دسمبر کے بعد 24گھنٹے کر دیا جائے گا۔ ہماری انفرادی قوت بہت کمزور پڑ چکی ہے ریلوے میں ایمر جنسی کے حالات ہیں، ریلوے میں تیس ہزار نئی بھر تیوں کی ڈیمانڈ ہے جبکہ دس ہزار نئی بھرتیوں کو اشد ضرورت ہے اور اسکی سمری وزیر اعظم کو ارسال کر دی ہے کہ بھرتیاں میرٹ پر ہوں گی ۔

انہوںنے بتایا کہ گولڑہ اسٹیشن کوفوڈ سٹریٹ اور تفریخ گاہ کے حوالے سے دو سے تین سال کیلئے پرائیوٹ پارٹنر شپ پر دینے کا فیصلہ کیا ہے ،15 تاریخ سے ٹینڈر کھولنے جارہے ہیں جس میں واٹر فلٹریشن اور ایکسلیٹرز کیساتھ ساتھ چیزوں کو پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ کیلئے کھول رہے ہیں۔ سو دن کے اندر اند ر وائی فائی اور ٹریکرز پر بھی کام مکمل ہو جائے گا ، اس حوالے سے کافی لوگ رضا کارانہ طور پر بھی کام کر رہے ہیں۔

شیخ رشید نے کہا کہ ایم ایل ون اور ایم ایل ٹو ریلوے کی ریڑھ کی ہڈی اور سی پیک میں شامل ہیں ، خوشحال خان ایکسپریس کو جو حادثہ ہوا اب ہم ایم ایل ٹو کو بھی پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ پر آفر کرنے جا رہے ہیں اور اس حادثے کی رپورٹ بھی میں نے تیس ستمبر تک طلب کر لی ہے ،سٹینڈر گیج کی ایک لائن کی بھی آفر دیں گے ابھی اس حوالے سے بات ہو رہی ہے اس پر ابھی کوئی ٹینڈرنگ نہیں کی گئی ، یہ ساری ریلوے کی دفاعی لائنیں ہیں ، پاکستان چائنہ اقتصادی راہداری میں اس کی 160کی رفتار کی پی سی ون گئی ہوئی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ ریلوے میں سرمایہ کاری کمیٹی بنا دی ہے جو ہفتہ میں دو گھنٹے بیٹھ کر سریہ کاری پر رپورٹ پیش کرے گی اس حوالے سے ویب سائٹ کا قیام بھی عمل میں لایا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ لاہور ریلوے ہیڈ کواٹرز کا ایک بڑا حصہ کر اچی منتقل کیا جائے گا کیونکہ کراچی اکانومی کے حوالے سے ریلوے کی شہ رگ ہے ، ریلوے کو دس سال پہلے جیسے چھوڑ کر گیا تھا ابھی تک ویسے ہی حالات ہیں ، سو دن میں فریٹ ٹرینوں کی تعداد پندرہ پر لے کر جائیں گے ، اس کی پرفارمنس 50فیصد بڑھادیں گے ، تمام سرمایہ کاروں کو ریلوے میں خوشامدید کہتے ہیں ، پارسل ٹرین پر بڑی کامیابی ملی ہے جس کے حوالے سے آئندہ چند دنوں میں آگاہ کروں گا ۔

انڈر کپیسٹی ٹرینوں پر بھی تحقیق کر رہا ہوں ، گزشتہ نو سال سے جھوٹ نہیں بول رہا ، ریلوے قوم کا ادارہ ہے میں ریلوے کی موجودہ کارکر دگی سے مطمئن ہوں ،ریلوے کی زمینوں میں دو تین بڑے پلاٹ بیچ کر اسے ریلوے کے خزانہ میں شامل کریں گے ، یقین دلاتا ہوں کہ کسی غریب کے حق پر ڈاکہ نہیں ڈالا جائے گا ،جو زمینیں لیز پر ہیں انکے معاملا ت کو بھی دیکھ رہیں ۔

انہوں نے کہا کہ سینٹ کے اجلاس میں ریلوے کا خسارہ 42ارب بتایا تھا لیکن اب افسران سے پتہ چلا کہ ریلوے کو 38ارب کا خسارہ ہے اور موجودہ قرضہ 25ارب کا ہے ۔ نواز شریف کی رہائی کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مجھے کچھ معلوم نہیں کہ کوئی ڈیل ہوئی ہے کہ نہیں یہ شہباز شریف بہتر بتا سکتے ہیں ۔ شیخ رشید نے مزید کہا کہ سارے ریلوے ملازمین کی تنخواہیں بڑھانی چاہئیں انکے بغیر ریلوے نہیں چل سکتا ۔

سو دن کے اندر صرف ریلوے سے متعلق سوال کریں میں اپنی کار کر دگی کا جوابدہ ہوں،عمران خان کی خواہش ہے کہ پاکستان کومدینہ جیسی ریاست بنائیں ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پر روزانہ چھ ارب کا سود ہے گزشتہ حکومت خزانہ لوٹ کر گئی ہے۔1905ء کے انگریز کے ریکاڈ کو کوئی نہیں جلا سکتا ، ہر ریکاڈ بدل سکتا ہے مگر یہ نہیں ،قوم کو یقین دلاتا ہوں کہ 30دسمبر تک ریلوے میں بہتری آئے گی ۔