بشریٰ بی بی نے عمران خان کے وزیراعظم بننے کے لیے کون سی منت مانگی تھی؟

بشریٰ بی بی جوتے اتار کر ننگے پائوں لاہور سے پیدل پاک پتن روانہ ہوگئیں ایسے ہی قبولیت کے لمحوں میں عمران خان کی وزارت عظمیٰ کی دعا بھی درجہ قبولیت اختیار کرگئی

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان اتوار ستمبر 15:43

بشریٰ بی بی نے عمران خان کے وزیراعظم بننے کے لیے کون سی منت مانگی تھی؟
لاہور (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 23 ستمبر 2018ء) معروف صحافی سہیل ورائچ کا اپنے حالیہ کام میں کہنا ہے کہ بشریٰ بی بی بابا فریدؒ کی تعلیمات کی سالک و مرید ہیں۔ جب بشریٰ بی بی کا دل خود پھرا تو ان کی روح میں ایمان کی روشنی سرایت کرگئی، ان کا باطن روشن ہوگیا۔ دنیا انہیں کاٹ کھانے کو دوڑنے لگی تو وہ جوتے اتار کر ننگے پائوں لاہور سے پیدل ہی پاک پتن روانہ ہوگئیں۔

وارفتگی کے اس ایک ہی سفر نے روحانیت کے دروازے ان پر وا کردیئے، ان کی دعا میں تاثیر پیدا ہوگئی اور ان کی ہدایت میں روحانیت در آئی۔ ایسے ہی قبولیت کے لمحوں میں عمران خان کی وزارت عظمیٰ کی دعا بھی درجہ قبولیت اختیار کرگئی۔ بشریٰ بی بی نے روحانیت کی سچائی کا ثبوت یوں بھی دیا کہ انتخابات سے پہلے ہی کہہ دیا کہ میں خوشخبری بن کر عمران کے پاس آئی ہوں، یہی اگلا وزیراعظم بنے گا اور ساتھ ہی ساتھ بتا دیا کہ پی ٹی آئی 116 نشستیں حاصل کرے گی۔

(جاری ہے)

خدا کی کرنی دیکھئے۔ جو بشریٰ عمران نے کہا تھا وہ ہوبہو پورا ہوا۔ بشریٰ عمران کو بابا فریدؒ کے وسیلے سے روحانی دنیا میں وہ درجہ حاصل ہوگیا ہے کہ وہ مستجاب الدعوات بن گئی ہیں۔ احسن جمیل اقبال کے نانا بھی ولی اللہ تھے احسن جمیل کو جگر کی بیماری ہوئی تو جگر کی تبدیلی کے لئے امریکہ میں پورا ایک سال مقیم رہے، مگر ویٹنگ لسٹ بہت لمبی تھی۔

ایک روز بشریٰ بی بی سے بات ہوئی تو احسن جمیل نے بتایا کہ فہرست بہت لمبی ہے دعا کریں۔ بی بی بشریٰ عمران نے دوسرے ہی دن جوابی فون کیا اور کہا کہ حضرت فاطمہؓ سے درخواست کی ہے اور انہوں نے آپ کے لئے دعا قبول کرلی ہے۔ احسن جمیل اقبال کے بقول دوسرے ہی دن انہیں فاطمہ نامی خاتون نے فون کر کے کہا فوراً اسپتال پہنچیں آپ کا جگر ٹرانسپلانٹ کرنا ہے۔ احسن جمیل اقبال اسے حسن اتفاق سمجھنے کو تیار نہیں اور نہ ہی روحانی دنیا کا کوئی اور شخص۔ اسے ہی تو کرامت کہتے ہیں۔