پاک بھارت وزرائے خارجہ کی ملاقات کی منسوخی بدقسمتی ہے ،ْبھارت کو مستقبل کا لائحہ عمل خود تیار کرنا ہے ،ْچوہدری فواد حسین

مسئلہ کشمیر دونوں ملکوں کے درمیان حقیقی مسئلہ ہے ،ْ جنگ کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ،ْتمام معاملات پر بحث کرنے کو تیار ہیں ،ْوزیراطلاعات بھارت کی جانب سے وزرائے خارجہ ملاقات کی منسوخی سیٹ بیک ہے اس کے باوجود کرتار پور سرحد کھولنے کیلئے تیار ہیں ،ْ انٹرویو

اتوار ستمبر 16:10

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 ستمبر2018ء) وفاقی وزیرا طلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ پاک بھارت وزرائے خارجہ کی سائیڈ لائن ملاقات کی منسوخی بدقسمتی ہے تاہم اب مستقبل کے لائحہ عمل خود بھارت نے ہی تیار کرنا ہے ،ْبھارت کی جانب سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس کے موقع پر وزرائے خارجہ ملاقات کی منسوخی سیٹ بیک ہے اس کے باوجود کرتار پور سرحد کھولنے کیلئے تیار ہیں۔

بھارتی خبر ایجنسی کو انٹرویو کے دوران فواد چوہدری نے کہا کہ بھارت کی جانب سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس کے موقع پر وزرائے خارجہ ملاقات کی منسوخی سیٹ بیک ہے اس کے باوجود کرتار پور سرحد کھولنے کیلئے تیار ہیں۔ چوہدری فواد حسین نے کہا کہ جنگ کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ،ْبھارت کے ساتھ تمام تصفیہ طلب امور پر بات چیت کے لیے تیار ہے ہیں، مسئلہ کشمیر دونوں ممالک کے درمیاں حقیقی مسئلہ ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ معاملات سے نمٹنے کے کئی طریقے ہیں، ایک آپشن ہے کہ دونوں ممالک جنگ کی طرف جائیں جو بے وقوفی ہوگی، دوسرا طریقہ یہ کہ دونوں ملک اندروںی طور پر ایک دوسرے کو کمزور کریں اور تیسرا طریقہ تصفیہ طلب مسائل کا حل بات چیت سے نکالنے کا ہے۔وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ہم تمام معاملات پر بحث کرنے کیلئے تیار ہیں، ہم نے گزشتہ 7 دہائیوں میں 3 جنگیں لڑیں تاہم اپنے ہمسائے تبدیل نہیں کرسکتے۔

چوہدری فواد حسین نے کہا کہ بھارت میں انتخابات ہونے والے ہیں شاید وہاں پاکستان مخالف نعرے زیادہ بکتے ہیں تاہم پاکستان میں بھارت مخالف نعرے نہیں بکتے۔نجی ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ بھارتی حکومت پاکستان مخالف جذبات ابھار کر انھیں الیکشن میں استعمال کرنا چاہتی ہے۔ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ امریکا کے ساتھ تعلقات بہترہوجائیں گے۔چوہدری فواد نے کہا کہ پاکستان خطے میں اہمیت کا حامل ملک ہے اورہم اپنا کردار ادا کریں گے۔