بھارت کی آبی دہشتگردی، بھارت نے دریائے ستلج ، راوی اور چناب میں پانی چھوڑ دیا

دریاؤں میں پانی کی سطح بُلند ہونے سے کئی دیہات زیر آب آگئے

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین پیر ستمبر 10:47

بھارت کی آبی دہشتگردی، بھارت نے دریائے ستلج ، راوی اور چناب میں پانی ..
سیالکوٹ (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 24 ستمبر 2018ء) : بھارت پاکستان کے خلاف اپنی روایتی ہٹ دھرمی سے باز نہیں آیا۔ لائن آف کنٹرول پر سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی سے لے کر دریاؤں میں پانی چھوڑنے تک ، بھارت ہمیشہ ہی سے پاکستان مخالف سرگرمیوں میں مصروف رہا ہے۔ دور روز قبل بھارتی آرمی چیف نے پاکستان مخالف بیانات دیے اور پاکستان کو سبق سکھانے کی بات کی جس پر بھارت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

تاہم اب بھارت نے آبی دہشتگردی کا سہارا لیتے ہوئے دریائے راوی، ستلج اور چناب میں پانی چھوڑ دیا، دریاؤں میں پانی کا لیول بڑھنے سے آس پاس کے کئی دیہات زیر آب آ گئے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق سیالکوٹ میں چہور کے مقام پر نالہ ڈیک میں پانی کی طغیانی سے کئی دیہات زیر آب آگئے۔

(جاری ہے)

بھارت کی جانب سے پانی چھوڑے جانے کے بعد نالہ ڈیک میں اونچے درجے کا سیلاب ہے جب کہ پنجاب کے شہر شکر گڑھ میں نالہ بئیں میں طغیانی کے بعد سینکڑوں ایکڑ فصل زیر آب آگئی ہے۔

فتح پور نیناں کوٹ روڈ پر پلیہ ٹوٹنے سے رابطہ منقطع ہوگیا، سیلابی پانی موضع پنڈی چکڑا، ننگل، بوراڈلہ کی فصلوں میں داخل ہوگیا جب کہ بوعہ کے مقام پر نالہ ہوڈلہ میں طغیانی ہے۔ اسی طرح بالائی علاقوں میں مسلسل بارشوں سے نارووال کے ندی نالوں میں طغیانی ہے، سیلابی صورتحال کے پیش نظر محکمہ انہار نے نالہ اوج اور نالہ ڈیک کے مقام پر فلڈ واچنگ کیمپ قائم کردیے ہیں۔

محکمہ انہار کے مطابق نالہ ڈیک میں اونچے درجے کا سیلاب ہے اور سیلابی ریلہ حفاظتی بندوں کے درمیان محفوظ طریقے سے گزر رہا ہے تاہم ناگہانی حالات کی صورت میں ضروری مشینری اور عملہ موجود ہے۔محکمہ انہار کے مطابق نالہ اوج پر سیلابی ریلہ انتہائی سیلاب کے لیول سے 3 فٹ کم پر گزر رہا ہے جہاں موجودہ لیول 861 فٹ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ دوسری جانب فلڈ کنٹرول روم کے مطابق ہیڈ مرالہ پر دریائے چناب میں پانی کی سطح 88 ہزار 364 کیوسک ہے اور اس وقت پانی معمول کے مطابق بہہ رہا ہے۔

فلڈ کنٹروم روم کا کہنا ہے کہ دریائے جموں توی میں نچلے درجے کا سیلاب ہے جہاں پانی کی سطح 20 ہزار833 کیوسک ہے جب کہ کنگرہ کے مقام پر نالہ ڈیک میں درمیانے درجے کا سیلاب ہے۔ ڈائریکٹر پروونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) ڈاکٹر خرم شہزاد کا کہنا ہے کہ دریائے راوی اور ستلج میں پانی کی صورتحال معمول پر ہے جب کہ دریائے چناب میں بھارت میں جموں توی کے مقام پر گزشتہ رات پانی کی سطح بلند ہوئی جہاں پانی کا لیول 20 ہزار کیوسک سے بڑھ کر ایک لاکھ 20 ہزار کیوسک کی سطح پر پہنچ گئی۔

ڈائریکٹر خرم شہزاد کے مطابق دریائے چناب میں اس وقت سیلاب کا کوئی خطرہ موجود نہیں ہے۔یاد رہے کہ گذشتہ روز بھارت کی جانب سے دریاؤں میں پانی چھوڑے جانے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا۔ بھارت نے آبی دہشتگردی کے تحت پاکستان کے دریاؤں میں پانی چھوڑ کر اپنی روایتی ہٹ دھرمی برقرار رکھی۔