بھارت کچھ کرے تو سہی ، ہم پھر بھارت کو سبق سکھا دیں گے

بھارت کی گیدڑ بھبکیوں پر سابق صدر پرویز مشرف کا بھارت کو منہ توڑ جواب

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین پیر ستمبر 10:57

بھارت کچھ کرے تو سہی ، ہم پھر بھارت کو سبق سکھا دیں گے
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 24 ستمبر 2018ء) : گذشتہ دو روز سے بھارتی آرمی چیف کا پاکستان مخالف بیان خبروں کی زینت بنا ہوا ہے جس پر بھارت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ بھارتی آرمی چیف نے پاک بھارت وزرائے خارجہ کے درمیان ہونے والی ملاقات کی منسوخی پر اپنی حکومت کے قصیدے پڑھے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان وہی کررہا ہے جو کرتا آیا ہے، پاکستان کو درد محسوس کرانےکا وقت آگیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم اپنی اگلی کارروائی کی تفصیلات بتا نہیں سکتے، بھارتی فوج کی کارروائی میں ہمیشہ سرپرائزہوتا ہے۔ جس پر سابق صدر پرویز مشرف نے بھارت کو کرارا جواب دے دیا۔ سابق صدر پرویز مشرف کا کہنا تھا کہ بھارت کچھ کرے تو سہی ، ہماری جانب سے ان کو پھر سبق سکھایا جائے گا۔

(جاری ہے)

نجی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے سابق صدر پرویز مشرف نے کہا کہ بھارت ہمیں کمزور کرنے کا خواب دیکھ رہا ہے ۔

لیکن بھارت یہ جان لے کہ پاک فوج بہادر، تجربہ کار اور لڑنے کی ماہر ہے۔ بھارت نے پاکستان کو پہلے بھی چیلنج کیا تھا اور اسے بھاگنا پڑا تھا ۔انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ پر حملے کے بعد بھارت اپنی تمام فوج سرحدوں پر لے آیا تھا۔ ہم دس ماہ تک ان کے سامنے کھڑے رہے اور بھارت دُم دبا کر بھاگ گیا، ہم دوستی کا ہاتھ بڑھا رہے ہیں لیکن بھارت ایسا نہیں کر رہا۔

یاد رہے کہ بھارتی آرمی چیف کی گیدر بھبکیوں کا پاکستان نے بھی کرارا جواب دیا تھا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ اکستان ایٹمی قوت ملک ہے اور جنگ کے لیے تیار ہے، بھارتی آرمی چیف کا بیان نامناسب ہے۔ بھارت داخلی دباؤ میں آکر کوئی ایسا قدم نہ اٹھائے جس کا ان کوخود نقصان اٹھانا پڑے، ہماری امن کی خواہش کو کمزوری نہیں سمجھنا چاہئیے۔

ہم خطے میں امن کے خواہاں ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے بھارتی آرمی چیف کے پاکستان مخالف بیان پربھرپور ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کودہشتگردی کا شکار بنایا گیا۔ لیکن پاکستان کامیابی کے ساتھ دہشتگردی کا مقابلہ کیا ہے۔ پاکستان امن پسند ملک ہے۔ پاکستان نے خطے میں امن قائم کیا ہے۔ بھارتی فوج کو چاہئیے کہ بھارت کے اندرونی معاملات کوہمارے کندھوں پررکھ نہ چلائے۔پاک فوج پروفیشنل فوج ہے۔ پاکستان ایٹمی قوت ہے اور ہم جنگ کے لیے تیار ہیں لیکن پھر بھی ہم دنیا کوامن کی طرف لے کرجانا چاہتے ہیں۔