ینگ نرسنگ ایسوسی ایشن سندھ کا مطالبات پورے نہ ہونے پر احتجاج کا فیصلہ

احتجاج کے پہلے مرحلے میں تمام سرکاری اسپتالوں میں شروع کے تین دن تمام شعبوں کا بائیکاٹ کیا جائے گا

منگل 2 اکتوبر 2018 16:00

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 اکتوبر2018ء) ینگ نرسنگ ایسوسی ایشن سندھ نے مطالبات پورے نہ ہونے پر آئندہ کا لائحہ عمل طے کرنے کے لیے 7اکتوبر کو اجلاس طلب کرلیا ہے ۔تفصیلات کے مطابق ینگ نرسنگ ایسوسی ایشن سندھ نے کراچی سمیت سندھ بھر کے اسپتالوں میں جائز مطالبات پورے نہ ہونے پر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے ۔اس ضمن میں 7اکتوبر کو اجلاس طلب کیا گیا ہے جس میں احتجاج کے حوالے سے لائحہ عمل طے کیا جائے گا ۔

احتجاج کے پہلے مرحلے میں سندھ بھر میں ینگ نرسنگ ایسوسی ایشن سندھ کی جانب سے تمام سرکاری اسپتالوں میں شروع کے تین دن تمام شعبوں کا بائیکاٹ کر کے صرف ایمرجنسی میں ڈیوٹی دی جائے گی تین روز تک مطالبات منظور نہ کیے گئے تو ایمرجنسی کا بھی بائیکاٹ کردیا جائے گا۔

(جاری ہے)

احتجاج کے پیش نظر سندھ بھر کے اسپتالوں کے تمام شعبوں میں علاج ومعالجہ کے لیے آنے والے مریضوں کی مشکلات میں بھرپور اضافہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔

اس ضمن میں ینگ نرسنگ ایسوسی ایشن کراچی کے صدر امجد خان نے کہا ہے کہ حکومت سندھ کی ترجیحات میں نرسنگ کے مسائل دور دور تک نظر نہیں آتے ہیں سندھ کے سرکاری اسپتالوں میں نرسنگ سے پیرامیڈیکل،ڈاکٹر اور خاکروب تک کا کام لیا جاتا ہے مگر نرسنگ کے مسائل کو حل کیا جاتا اورنہ ہی جائز مطالبات پرپورے کیے جارہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے گزشتہ سیکرٹری صحت فضل اللہ پیچوہو کو بھی بہت سی درخواستیں جمع کروائی تھی جس پر انہوں نے کوئی کارروائی نہیں کی انہوں نے کہا کہ ہمارے مطالبات اس طرح کے نہیں ہیں جو حل نہ ہوسکیں انہوں نے کہا کہ ہمیں سروس اسٹرکچر دیا جائے ڈاکٹرز پیرامیڈیکل اسٹاف کی طرح ہمیں بھی ہیلتھ پروفیشنل الاؤنس دیا جائے تمام صوبوں کی طرح صوبہ سندھ میں بھی نرسنگ کے طالب علموں کو 20،000 ماہانہ وظیفہ دیا جائے ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ کے مطابق سندھ میں نرسز کا بحران ہے جس کی وجہ سے ایک نرس پر بڑی تعداد کے مریضوں کے دیکھ بھال کی ذمہ داری ہے جس کے پیشِ نظر مزید 14000 نرسز کو بھرتی کیا جائے اور نرسنگ اساتذہ کو ٹیچنگ الاؤنس دیا جائے انہوں نے کہا ہے کہ اگر ہمارے مطالبات منظور نہ کیے گئے تو نتائج کی ذمہ دار حکومت سندھ ہوگی۔