آئی ایم ایف پاکستان کو قرض دینے کو تیار

عالمی مالیاتی ادارہ پاکستان پر قرض کے حصول کے لیے متعدد شرائط عائد کرسکتا ہے

Syed Fakhir Abbas سید فاخر عباس جمعرات نومبر 20:25

آئی ایم ایف پاکستان کو قرض دینے کو تیار
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 08 نومبر2018ء) قرض کے سلسلے میں پاکستان اور آئی ایم ایف کے مابین مذاکرات جاری ہیں۔ عالمی مالیاتی ادارہ پاکستان پر قرض کے حصول کے لیے متعدد شرائط عائد کرسکتا ہے۔تفصیلات کے مطابق پاکستان اس وقت معاشی بحران سے گزر رہا ہے تاہم دوست ممالک کی جانب سے ملنے والے امدادی پیکجز اور تعاون کے بعد صورتحال بہتر ہوتی نظر آتی ہے۔

تاہم اس سب کے باوجود پاکستان کو نہ چاہتے ہوئے بھی آئی ایم ایف سے رجوع کرنا پڑرہا ہے۔اس حوالے سے خبر یہ تھی کہ آئی ایم ایف نے حکومت پاکستان کو قرضہ دینے کی پیشکش کردی ہے۔ آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کو 12 ارب ڈالر کا سہولتی قرضہ دینے کی پیشکش کی گئی ہے۔ تاہم قرضے کے حصول کیلئے حکومت پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان ابھی شرائط طے کرنا باقی ہیں۔

(جاری ہے)

اب ان شرائط کو طے کرنے کے لئے پاکستان اور آئی ایم ایف میں مذاکرات پیرس میں ہوں گے۔آئی ایم ایف کےساتھ پالیسی سطح کےمذاکرات پیرسےشروع ہوں گے۔پاکستان اورآئی ایم ایف کےدرمیان مذاکرات 20 نومبر تک جاری رہیں گے۔پاکستان قرض کی مالیت سےمتعلق حتمی تخمینہ مذاکرات کے آخرمیں پیش کریگا۔اس حوالے سے خبر ہے کہ پاکستان آئی ایم ایف سے 6 سے 8 ارب ڈالر قرض کی درخواست کرسکتا ہے۔

اس حوالے سے آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان پر قرض کے حصول کے لیے متعدد شرائط عائد کی جا سکتی ہیں۔بی بی سی اردو کے نامہ نگار کے مطابق آئی ایم ایف حکام ہمیشہ برآمدات بڑھانے، شرحِ سود بڑھانے، سبسڈیز ختم کرنے، مقامی کرنسی کی قدر کم کرنے اور بجٹ خسارہ کم کرنے کے اقدامات تجویز کرتا ہے۔ یہ وہ بنیادی ڈھانچہ ہے جس کے گرد آئی ایم ایف کی شرائط گھومتی ہیں اور پاکستان کے لیے بھی اس نوعیت کی شرائط ہوں گی۔

تاہم یہ اس بات پر منحصر ہے کہ قرض لینے والا ملک اپنے کوٹے کے مطابق قرض لیتا ہے یا اس سے زیادہ۔ اس وقت پاکستان کا کوٹہ جس حد تک وہ قرض لے سکتا ہے وہ دو سے تین ارب ڈالر تک ہے۔ لیکن کوئی بھی ملک اپنے کوٹے سے زیادہ قرض بھی لے سکتا ہے۔ پاکستان کے پاس اپنے کوٹے سے چار سو فیصد سے زائد قرض لینے کی سہولت موجود ہے۔ لیکن کوٹے سے زیادہ قرض لینے میں مسئلہ یہ ہے کہ جوں جوں قرض کی مقدار کوٹے سے بڑھتی چلی جاتی ہے، آئی ایم کی شرائط پر عمل کرنا بھی اتنا ہی ٰضروری ہوتا چلا جاتا ہے۔

اس سلسلے میں رپورٹ کے مطابق اگر پاکستان اپنے کوٹے کے مطابق قرض لے تو وہ آئی ایم ایف کی شرائط کو نظر انداز کر سکتا ہے تاہم اگر وہ اپنے کوٹے سے زائد قرض لے تو آئی ایم ایف کی جانب سے اس پر اضافی شرائط بھی عائد کی جاسکتی ہیں۔