چیئرمین پی اے سی کی تعیناتی، وزیراعظم نے خواجہ آصف کانام مستردکردیا

منی لانڈرنگ میں ملوث شخص کواہم عہدہ کیسے دے سکتے ہیں،عمران خان کا اظہار برہمی

جمعہ نومبر 19:30

چیئرمین پی اے سی کی تعیناتی، وزیراعظم  نے خواجہ آصف کانام مستردکردیا
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 نومبر2018ء) چیئرمین پبلک اکانٹس کمیٹی کی تعیناتی پر وزیراعظم عمران خان نے خواجہ آصف کا نام مسترد کردیا اور اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا منی لانڈرنگ میں ملوث شخص کواہم عہدہ کیسے دے سکتے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق حکومتی جماعت نے چیئرمین پبلک اکانٹس کمیٹی کی تعیناتی پر پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو اور مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ آصف کے ناموں پر غور کیا گیا ، وزیراعظم عمران خان نے خواجہ آصف کا نام مسترد کردی۔

خواجہ آصف کا نام زیر بحث لانے پر وزیراعظم عمران خان نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ منی لانڈرنگ میں ملوث شخص کواہم عہدہ کیسے دے سکتے ہیں۔وزیراعظم نے خواجہ آصف کے نام پرمشاورت سے بھی روک دیا اور کہا خواجہ آصف کے نام پرکسی قسم کی مشاورت نہ کی جائے، پی ایسی چیئرمین کیلئے شہرت کے پارلیمنٹیرین کوترجیح دیں۔

(جاری ہے)

یاد رہے حکومت نے پبلک اکاونٹس کمیٹی سے متعلق لچک دکھاتے ہوئے پی اے سی کے چیئر مین کے لیے اپوزیشن سے رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور وزیرِ اعظم عمران خان کی زیرِ صدارت پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی اجلاس میں اپوزیشن سے رابطے کی منظوری دی تھی۔

وفاقی وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری نے شہباز شریف کو پی اے سی کا چیئرمین بنانے پراعتراض کرتے ہوئے کہا تھا کہ نواز شریف کے منصوبوں کی تحقیقات وہ کیسے کریں گے۔ پاکستان تحریکِ انصاف اور اپوزیشن کے درمیان پبلک اکاونٹس کمیٹی کے چیئرمین کے عہدے پر اختلاف چلتا آ رہا ہے، وزیرِ اطلاعات نے پی اے سی کی سربراہی حکومت کا حق قرار دیا جبکہ اپوزیشن کا موقف ہے کہ یہ حق اپوزیشن کو حاصل ہے۔