سکولوں سے باہر اڑھائی کروڑ بچوں کے سکولوں میں داخلہ کو یقینی بنانے کیلئے حکمت عملی طے کی جا رہی ہے، شفقت محمود

تعلیم کو سیاست سے ہٹ کر دیکھنا چاہئے ، یکساں نظام تعلیم و نصاب اولین ترجیح ہے، اس کیلئے نصاب کونسل تشکیل دی جائیگی،وزیراعظم سے تعلیمی رضا کارپروگرام شروع کرنے کی درخواست کرینگے ،وزیر تعلیم کی پریس کانفرنس

پیر نومبر 22:31

سکولوں سے باہر اڑھائی کروڑ بچوں کے سکولوں میں داخلہ کو یقینی بنانے ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 نومبر2018ء) وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت شفقت محمود نے کہا ہے کہ سکولوں سے باہر اڑھائی کروڑ بچوں کے سکولوں میں داخلہ کو یقینی بنانے کیلئے حکمت عملی طے کی جا رہی ہے، تعلیم کو سیاست سے ہٹ کر دیکھنا چاہئے ، یکساں نظام تعلیم و نصاب اولین ترجیح ہے، اس کیلئے نصاب کونسل تشکیل دی جائیگی،وزیراعظم سے تعلیمی رضا کارپروگرام شروع کرنے کی درخواست کرینگے ۔

وزیر تعلیم وپیشہ وارانہ تربیت شفقت محمود نے یہ بات پیر کو 11ویں بین الصوبائی وزراء تعلیم کانفرنس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی ۔کانفرنس میں سندھ، بلوچستان، پنجاب، خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان اور ریاست آزاد کشمیر کے وزراء تعلیم، سیکرٹری تعلیم اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی ۔

(جاری ہے)

کانفرنس میں ملک میں معیار تعلیم کی بہتری اور شرح خواندگی میں اضافہ کیلئے مختلف امور پر غور کیا گیا اور مختلف تجاویز دی گئیں اور اپنے اپنے صوبوں میں جاری تعلیم کے منصوبوں سے آگاہ کیاگیا۔

انہوں نے کہا کہ تعلیم کو سیاست سے ہٹ کر دیکھنا چاہئے اور مجھے خوشی ہے کہ ملک کی تمام اکائیوں کی نمائندگی اس اجلاس میں موجود تھیں اور وہ تعلیم کو سنجیدگی سے لے رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم پر بہت سے معاملات ہیں، وفاق اور صوبوں میں ہم آہنگی پائی جاتی ہے جو کہ ایک خوش آئند بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ہمیں سکولوں سے باہر بچوں کے سب سے بڑے چیلنج کا سامنا ہے، ہمارے ملک میں 2 سے اڑھائی کروڑ سکول جانے کی عمر کے بچے سکول نہیں جا رہے، ان میں وہ بھی بچے شامل ہیں جو کبھی سکول گئے ہی نہیں اور کچھ ایسے ہیں جو سکول گئے لیکن مختلف وجوہات کی بناء پر تعلیم مکمل کئے بغیر سکولوں کو خیرباد کہہ دیا۔

شفقت محمود نے کہا کہ ہمارے ملک میں اس وقت تین قسم کے تعلیمی نصاب ہیں، ایک نصاب وہ جو سرکاری سکولوں میں پڑھایا جا رہا ہے، دوسرا وہ جو نجی سکول اپنائے ہوئے ہیں جبکہ مدارس اپنا الگ سے نصاب رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں وقت کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے یکساں نصاب تعلیم کی ضرورت ہے، اس کیلئے نصاب کونسل تشکیل دی جائے گی جو کہ تمام سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں اور ان کی مشاورت سے یکساں نصاب تشکیل دے گی جس میں کم از کم 5 سے 6 مضامین ایسے ہوں جو تمام طرح کے سکولوں میں پڑھائے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ اجلاس میں یکساں نظام تعلیم لانے کیلئے غور کیا گیا جبکہ تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے پر بات چیت ہوئی۔ شفقت محمود نے کہا کہ ہمارے تعلیم اداروں میں ایسی تعلیم دی جا رہی ہے جسے حاصل کرنے کے بعد نوکری کا حصول یقینی نہیں ہوتا، اس وقت ہمارے بے شمار لوگ ہیں جو پی ایچ ڈی کرنے کے بعد بھی نوکریوں سے محروم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان سے درخواست کریں گے کہ تعلیمی رضاکار پروگرام لانچ کیا جائے، رضاکارانہ طور پر لوگ تعلیم میں بہتری کیلئے کام کریں۔ انہوں نے کہا کہ بچیوں کی تعلیم اولین ترجیحات میں شامل ہے۔