حکومت کے پاس منصوبہ بندی کی اہلیت ہے اور نہ ہی صلاحیت ہے. چیف جسٹس

نجی سکولوں کی فیسوں میں اضافہ: عدالت نے کمیٹی مگر کوئی نتیجہ نہیں نکلا، اب خود کمیٹی کی سربراہی کرونگا.کیس کے دوران ریمارکس

Mian Nadeem میاں محمد ندیم منگل نومبر 12:32

حکومت کے پاس منصوبہ بندی کی اہلیت ہے اور نہ ہی صلاحیت ہے. چیف جسٹس
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔13 نومبر۔2018ء) چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے بنی گالہ میں تجاوزارت سے متعلق کیس میں ریمارکس دیے ہیں کہ موجودہ حکومت کے پاس منصوبہ بندی کی نہ تو اہلیت ہے اور نہ ہی صلاحیت ہے. بنی گالہ میں تجاوزارت سے متعلق کیس کی سپریم کورٹ آف پاکستان میں سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے سی ڈی اے کی جانب سے رپورٹ پیش کر دی.

چیف جسٹس ثاقب نثار نے مارگلہ ہلز پر درختوں کی کٹائی سے متعلق کیس میں ریمارکس دیےکہ جن کیسز کا نوٹس لے رکھا ہے وہ ادھورے چھوڑ کر نہیں جاﺅں گا، ان کا فیصلہ کر کے ہی جاﺅں گا.

(جاری ہے)

مارگلہ ہلز پر درختوں کی کٹائی سے متعلق کیس میں چیف جسٹس ثاقب نثار نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے کہا کہ چونکہ نیا پاکستان بن رہا ہے،اس کیلئے بھی آپ کو زمین چاہیے، ممکن ہے کہ آپ زیر زمین بجلی کی لائنیں بچھائیں، ممکن ہے آپ زیر زمین ٹرین بھی چلانا چاہیں، بنی گالہ میں سہولتوں کے لیے زمین چاہیے.

چیف جسٹس نے کہا کہ سی ڈی اے نے کوئی پلان نہیں دیا یا تو جرمانہ لے کر تعمیرات کو ریگولائز کر دیں، بنی گالہ کی منصوبہ بندی کے تحت ڈیویلپمنٹ کرنا ہے تو تعمیرات خریدنی پڑیں گی. انہوں نے کہا کہ مالکان کو ازالے کے لیے ادائیگی کرنی پڑے گی، ریگولرائزیشن کے لیے پیسے دینا ہوںگے، اگر نیا شہر بنانا چاہتے ہیں تو سی ڈی اے زمینیں حاصل کرے،مفاد عامہ کی درخواستیں لوگوں کی سہولت کے لیے سنتے ہیں.

سروے جنرل آف پاکستان کے نمائندے نے عدالت کو بتایا کہ ہم نے سروے کیا ہے مگر ابھی تک فیس نہیں ملی،3.42ملین سی ڈی اے اور آئی سی ٹی نے دینا ہیں. ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ سی ڈی اے نے ادائیگی کی منظوری دے دی ہے،کچھ پیسے پنجاب حکومت کو بھی دینے ہیں. سپریم کورٹ آف پاکستان نے حکم دیا کہ سروے جنرل آف پاکستان کو ایک مہینے میں ادائیگی کی جائے.

دوسری جانب چیف جسٹس پاکستان نے نجی سکولوں کی فیسوں میں اضافے سے متعلق کیس میں ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے جو کمیٹی بنائی اس نے کوئی نتیجہ نہیں دیا، اب وہ خود کمیٹی کی سربراہی کریں گے. سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی. چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے کہا کہ سکول فیسوں میں اضافہ کررہے ہیں، والدین رو رہے ہیں،چاہتے ہیں فریقین مل بیٹھ کر مسئلہ حل کرلیں.

چیف جسٹس نے کہا کہ اس معاملے پر وفاقی محتسب اور آڈیٹر جنرل کو بھی طلب کر لیں گے‘ سپریم کورٹ نے کمیٹی کو ہدایت کی کہ طے کرے سال میں کتنی بار اور کتنی فیس بڑھائی جائے. دوران سماعت سیکرٹری قانون نے کہا کہ نجی سکولز فیسوں میں8 سے10 فیصد اضافہ چاہتے ہیںاور کسی پابندی کو بھی ماننے کو تیار نہیں. سیکرٹری لاءکمیشن نے عدالت کو بتایا کہ والدین اور اسکولز کے وکلاءکا کمیٹی کے ٹی او آرز پر اتفاق ہے، فیسوں میں 8 فیصد اضافے پر بھی فریقین کسی حد تک متفق ہیں. جسٹس اعجازالاحسن نے استفسار کیا کہ فیس میں اضافے کو کس اشاریے کیساتھ منسلک کیا جاسکتا ہے ؟ فرانزک آڈٹ میں یہ تعین کرنا ہے کہ نجی سکولز کتنا کماتے ہیں،اسی بنیادپر فیس کے میکانزم کا تعین ہونا ہے.