سپریم کورٹ کا رشوت کے الزام میں گرفتار شخص کی ضمانت کے حوالے سے مقدمے میں محکمہ اینٹی کر پشن کی نا قص کارکردگی پر عدم اطیمنان کا اظہار

پیر نومبر 23:21

سپریم کورٹ کا رشوت کے الزام میں گرفتار شخص کی ضمانت کے حوالے سے مقدمے ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 نومبر2018ء) سپریم کورٹ نے رشوت کے الزام میں گرفتار شخص کی ضمانت کے حوالے سے مقدمے میںمحکمہ اینٹی کر پشن کی نا قص کارکردگی پر عدم اطیمنان کا اظہارکرتے ہوئے قراردیا ہے کہ اگر محکمہ اینٹی کرپشن سے کام نہیں ہوتا تو اسے بند کردیا جائے ایسا نہ ہو کہ محکمہ اینٹی کرپشن کے خلاف کیس نیب کو بھجوا دیاجائے۔

پیرکوجسٹس شیخ عظمت سعید کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے ملزم محمد الیاس کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کی۔اس موقع پرجسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ جو لوگ زمین کی غلط رجسٹریشن کے ذمہ دار ہیں و ہ ضمانت پر رہا ہوچکے ہیں‘ محکمہ اینٹی کرپشن نے کمزور کیس تیارکیا جس کی وجہ سے اصل ملزمان ضمانت کرانے میں کامیاب ہوگئے ہیں، فاضل جج نے کہاکہ عدالت کوبتایا جائے کہ محکمہ رشوت ستانی پنجاب نے تحصیلدار اور پٹواری کی ضمانت کو چیلنج کیوں نہیں کیا جواصل ذمہ دار ہیں ۔

(جاری ہے)

محکمہ اینٹی کرپشن کی یہ ذمہ داری تھی کہ وہ اصل ملزمان کی ضمانت کے خلاف اپیل دائر کرتا۔ سماعت کے دوران پنجاب کے پراسیکوٹر نے ملزم کی جانب سے اپنی ضمانت کیلئے دائر درخواست کی مخالفت کی تو عدالت نے ان سے کہا کہ اس معاملے میں سب کچھ واضح نظر آرہا ہے کیوں نہ تفتیشی افسر سمیت تمام ذمہ داروں کو جیل بھجوا دیا جائے،اگر اینٹی کرپشن سے کام نہیں ہوتا تو اسے بند کر دیاجائے،بنچ کے سربراہ نے مزید کہا کہ اینٹی کرپشن نے ملزمان کے خلاف کمزور مقدمہ تیارکیا تھا جس کی وجہ سے اصل ملزمان ضمانت پر رہا ہوگئے ہیں،اس موقع پر ملزم کے وکیل نے ضمانت کیلئے دائردرخواست واپس لے لی ، جس پر عدالت نے معاملہ نمٹاتے ہوئے قراردیا کہ معاملہ ڈائریکٹر جنرل نیب کے نوٹس میں لایا جائے۔

عدالت نے ہدایت کی کہ آئندہ اس نوعیت کے مقدمات میں ایڈووکیٹ جنرل خود پیش ہو ں۔