سینیٹر رحمان ملک کا امریکی صدر کو پبلک مناظرے کا چیلنج

امریکی صدر کا بیان افسوسناک ‘ پوری پاکستانی قوم کی دل آزاری ہوئی‘ڈونلڈ ٹرمپ کو پبلک مناظرہ کی دعوت دیتا ہوں اور ثابت کروں گا کہ طالبان، القاعدہ اور داعش کس نے بنائے، اسامہ بن لادن کس کا پیداوار تھا‘واشنگٹن نے اسلام آباد کو کوئی امداد نہیں دی ‘ امریکی صدر کا کولیشن سپورٹ فنڈ کو امداد کا نام دینا سراسر غلط ہے‘دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ نقصان پاکستان کا ہوا ‘ردعمل

منگل نومبر 17:04

سینیٹر رحمان ملک کا امریکی صدر کو پبلک مناظرے کا چیلنج
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 نومبر2018ء) سینیٹر رحمان ملک نے کہا ہے کہ امریکی صدر کا بیان افسوسناک ہے ‘ پوری پاکستانی قوم کی دل آزاری ہوئی‘ڈونلڈ ٹرمپ کو پبلک مناظرہ کی دعوت دیتا ہوں اور ثابت کروں گا کہ طالبان، القاعدہ اور داعش کس نے بنائے‘اسامہ بن لادن کس کا پیداوار تھا‘واشنگٹن نے اسلام آباد کو کوئی امداد نہیں دی ‘ امریکی صدر کا کولیشن سپورٹ فنڈ کو امداد کا نام دینا سراسر غلط ہے‘دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ نقصان پاکستان کا ہوا ۔

گزشتہ روز اپنے ایک بیان میں سینیٹر رحمان ملک نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر کو پبلک مناظرہ کی دعوت دیتا ہوں، ثابت کروں گا کہ پاکستان نے امریکہ کیلئے ہمیشہ بہت کچھ کیاہے ،ثابت کرونگا طالبان، القاعدہ اور داعش کس نے بنائے، اسامہ بن لادن کس کا پیداوار تھا،صدر ڈونلڈ ٹرمپ دھشتگردی کیخلاف جنگ پر پاکستان کیساتھ ہوئے معاہدے پڑھے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے پیشرو سے پوچھے جو پاکستان کے امریکہ پر احسانات مان چکے ہیں،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بیان افسوسناک ہے جس سے پاکستانیوں کی دل آزاری ہوئی ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکہ کو پاکستان کا شکرگزار ہونا چاہئے کہ سویئت یونین اور نائن الیون سے لیکر اب تک ساتھ دے رہا ہے۔ امریکہ نے پاکستان کو کوئی ایڈ نہیں دیا ہے بلکہ جو رقم ادا کیا ہے وہ سروس چارجز کی مد میں کیا ہے۔

رحمان ملک نے کہا کہ امریکہ پاکستان کا 155 بلین ڈالر کا مقروض ہے جو اس نے ہماری سروسز کے بدلے ادا کرنا ہونگے۔ پاکستان نے امریکہ کو اپنی زمینی سمندری اور ہوائی اڈے استعمال کرنے دئیے جو کمرشل استعمال کیلئے بند رہے۔ امریکی صدر کولیشن سپورٹ فنڈ کو امداد کا نام دے رہا ہے جو کہ سراسر غلط ہے۔ کولیشن سپورٹ فنڈ امریکہ، نیٹو فورسسز و پاکستان کے جوائنٹ آپریشنز میں استعمال ہوتا رہا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان نے امریکا کو دھوکا نہیں دیا بلکہ امریکا نے پاکستان کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کررکھا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ نقصان پاکستان کو ہوا۔ دھشتگردی کیخلاف جنگ میں پاکستان کو 75 ہزاروں جانوں کا نذرانہ دینا پڑا۔ دھشتگردی کیخلاف جنگ میں ہمارا امن، انفرانسٹرکچر اورمعیشت برباد ہوئی۔