خواجہ سعد رفیق اور ان کے بھائی نے کروڑوں روپے کمیشن کے طور پر لینے کا اعتراف کیا ہے

محض ٹیکس ریٹرن میں ذکر کردینے سے چوری اور ڈکیتی سے حاصل ہونے والی رقم قانونی نہیں ہو جاتی، لاہور ہائی کورٹ میں نیب وکیل کے دلائل نیب کی جانب سے کوئی ثبوت پیش نہیں کئے گئے، وکیل صفائی کے دلائل

منگل دسمبر 19:10

خواجہ سعد رفیق اور ان کے بھائی نے کروڑوں روپے کمیشن کے طور پر لینے کا ..
لاہور۔11 دسمبر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 دسمبر2018ء) قومی احتساب بیورو (نیب )کی طرف سے پیراگون ہائوسنگ سکینڈل میں مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما خواجہ سعد رفیق اور خواجہ سلمان رفیق کی گرفتاری سے قبل لاہور ہائیکورٹ کے جج جسٹس طارق عباسی کی سربراہی میں بینچ نیان کی ضمانت قبل از گرفتاری میں توسیع کی درخواست پر سماعت کی، مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ سعد رفیق اور ان کے بھائی خواجہ سلمان رفیق عدالت میں پیش ہوئے، دوران سماعت نیب پراسیکیوٹر نے دلائل دیتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ نیب قانون کے مطابق خواجہ برادران کے خلاف کارروائی کر رہا ہے، خواجہ برادران کا پیراگون سے بالکل تعلق ہے،خواجہ سعد رفیق کی اہلیہ نے قیصر امین بٹ سے ملکر پیراگون ہائوسنگ سٹی میں پارٹنر شپ کی، پیراگون ہائوسنگ سوسائٹی سے خواجہ برادران کو بھی پیسے آتے رہے، خواجہ سعد رفیق اور ان کے بھائی نے تسلیم کیا ہے کہ انہوں نے کروڑوں روپے کمیشن کے طور پر لیے، نیب کے وکیل نے بتایا کہ خواجہ سعد رفیق کے بہنوئی بھی اس معاملے میں پارٹنر ہیں، اگر کوئی رقم چوری اور ڈکیتی سے حاصل کی جائے اور ٹیکس ریٹرن میں اسکا ذکر کر دیا جائے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ رقم درست ہے،انہوں نے کہا کہ شاہد بٹ نے نیب کو بیان دیا کہ خواجہ سعد رفیق ہر اجلاس میں آتے تھے اور الاٹمنٹ لیٹر لوگوں کو جاری کرتے تھے، خواجہ برداران کے خلاف تب انکوائری شروع ہوئی جب مسلم لیگ (ن) کی حکومت تھی، نیب کے وکیل نے عدالت عالیہ کو بتایا کہ چیئرمین نیب جج رہ چکے ہیں ان کی کسی کے ساتھ نہ دشمنی ہے نہ دوستی، وہ قانون کے مطابق کام کرتے ہیں اور انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ ان کی ضمانت خارج ہونی چاہیے، خواجہ سعد رفیق اور ان کے بھائی کے وکیل اعظم نذیر تارڑ اور خواجہ امجد پرویز نے دلائل د یتے ہو ئے کہا کہ نیب کی جانب سے کوئی ثبوت پیش نہیں کئے گئے،پیراگون ہائوسنگ کیس کے ایک ملزم کو گرفتار کرکے 164کا بیان ریکارڈ کروایا گیا ہے جبکہ بیان کی کاپی بھی نہیں دی جا رہی،جس پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ شواہد کی نقل تو آپ کو نہیں دی جاسکتی،عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد خواجہ برادران کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست مسترد کردی جس کے بعد سعد رفیق اور ان کے بھائی سلمان رفیق کو نیب نے کمرہ عدالت سے گرفتار کرلیا،احاطہ عدالت میں مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں کی بڑی تعداد موجود تھی،خواجہ سعد رفیق اور سلمان رفیق کمرہ عدالت سے باہر آئے تو کارکنوں نے نعرے بازی شروع کر دی تاہم خواجہ سعد رفیق نے کارکنوں کو روکتے ہوئے کہا کہ کارکن صبر کا پیمانہ ہاتھ سے نہ چھوڑیں، ہمارا دامن صاف ہے، انہوں نے کہا کہ کوئی کنکر اور پتھر کسی کو نہ لگے،گرفتاری کے خلاف کوئی مزاحمت نہیں کرنی،انہوں نے کہا کہ ہائوسنگ سکیم کا مالک ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، نیب نے کوئی دستاویزات پیش نہیں کیں،عدالتوں کا احترام کرتے رہیں گے، نیب ترجمان کی طرف سے جاری بیان کے مطابق قومی احتساب بیورو (نیب ) لاہور حکام کی جانب سے خواجہ سعد رفیق اور ان کے بھائی سلمان رفیق کی پیراگون سٹی کرپشن کیس میں مبینہ طور پر مالی فوائد حاصل کرنے کے الزام میں لاہور ہائیکورٹ سے ضمانت قبل از گرفتاری کے خارج ہونے پر گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے جس سے نیب کے ملزمان کے خلاف معقول شواہد پیش کرنیکی تصدیق ہوئی ہے، ذرائع کے مطابق خواجہ سعد رفیق اور سلمان رفیق کو نیب آفس منتقل کر دیا گیا جہاں ان سے پیراگون ہائوسنگ سوسائٹی کے حوالے سے تحقیقات کی جائیں گی،خیال رہے کہ خواجہ سعد رفیق اور سلمان رفیق نے پیراگون ہاسنگ سکینڈل میں قبل ازگرفتاری ضمانت میں متعدد مرتبہ توسیع حاصل کی تھی۔