سپریم کورٹ نے تطہیر فاطمہ کیس نمٹا دیا

معاملہ کابینہ کو بھجواتے ہوئے قانون سازی کی ہدایت کر دی

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین جمعرات دسمبر 17:19

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 13 دسمبر 2018ء) : سپریم کورٹ آف پاکستان نے تطہیر فاطمہ کا کیس نمٹاتے ہوئے معاملہ کابینہ کے سپرد کر دیا اور اس معاملے پر قانون سازی کی ہدایت کر دی۔ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تطہیر فاطمہ بنت پاکستان کیس کی سماعت ہوئی۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالتی معاونین کی رائے ہے کہ تطہیر فاطمہ کا نام تبدیل نہیں کیا جا سکتا، البتہ باپ سے نان نفقے کا تقاضا کیا جا سکتا ہے۔

عدالتی معاون مخدوم علی خان کا کہنا تھا کہ باپ کا نام دستاویزات پر لکھنے میں کوئی مفاد عامہ نہیں۔ امریکہ ، متحدہ عرب امارات یا پھر سعودی عرب ہو، ان ممالک میں شناختی دستاویزات پر باپ کا نام نہیں ہوتا۔

(جاری ہے)

جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ یہ لڑکی کہہ رہی ہے کہ باپ کا نام نہ لکھا جائے، ایسی صورت حال میں کیا کیا جائے؟ جس پر عدالتی معاون مخدوم علی خان نے جواب دیا کہ نادرا کو کہہ دیں کہ والد کا نام نہ لکھیں، لیکن اس کے لیے نادرا کو نیا سافٹ وئیر لگانا پڑے گا۔

عدالتی معاون وکیل مخدوم علی خان کا کہنا تھا کہ بیرون ممالک سفر کے لیے تطہیر فاطمہ کو باپ کے نام کی ضرورت ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ شرعی اور قانونی رائے کے مطابق باپ کا نام ہٹایا نہیں جا سکتا۔ دوران سماعت تطہیر فاطمہ کی والدہ کا کہنا تھا کہ میں چاہتی ہوں جہاں والد نہ ہو وہاں اس کی کفالت کرنے والے کا نام لکھ دیا جائے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اس سے جائیداد تقسیم کے معاملات پیدا ہو سکتے ہیں، اس معاملے کو کابینہ میں لے جائیں اور اس پر قانون سازی کی جائے۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت لاوارث بچوں کے معاملے پر عبد الستار ایدھی والے معاملے پر فیصلہ کر چکی ہے۔ جس کے بعد سپریم کورٹ نے تطہیر فاطمہ بنت پاکستان کا معاملہ کابینہ کو بھجواتے ہوئے قانون سازی کی ہدایت کر دی۔ یاد رہے کہ رواں برس 22 سال کی عمر میں اپنے کاغذات میں ولدیت کے خانے سے والد کا نام ہٹانے کا مطالبہ کرنے والی تطہیر نے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں اپنا نام ''تطہیر بنت پاکستان'' لکھا۔

تطہیر کا مطالبہ بھی یہی تھا کہ ان کے تمام کاغذات میں ولدیت کے خانے میں موجود ان کے والد کا نام ہٹا دیا جائے کیونکہ وہ اپنے والد سے کوئی رشتہ نہیں رکھنا چاہتیں۔ تطہیر کا کیس اپنے آپ میں ایک مثالی کیس ہے کیونکہ ایسا کوئی کیس پہلے زیر سماعت رہا ہو، ایسا سننے میں نہیں آیا۔ پاکستان میں بھی اس حوالے سے فی الحال کوئی قانون موجود نہیں ہے۔ اسی لیے سپریم کورٹ نے اس معاملے کو کابینہ کو بھجواتے ہوئے قانون سازی کا حکم دے دیا ۔