واٹر کمیشن نے سندھ بھر میں انڈسٹریز کی جگہوں کو کمرشل استعمال کرنے کے معاملے پر چیف سیکریٹری سندھ کو 22 دسمبر کو طلب کرلیا

جمعرات دسمبر 20:11

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 13 دسمبر2018ء) واٹر کمیشن نے سندھ بھر میں انڈسٹریز کی جگہوں کو کمرشل استعمال کرنے کے معاملے پر چیف سیکریٹری سندھ کو 22 دسمبر کو طلب کرلیا ہے ۔جمعرات کو پانی کی فراہمی ونکاسی آب کی ابتر صورتحال پر تشکیل دیئے گئے واٹر کمیشن کا کی سماعت ہوئی جہاں سندھ بھر میں انڈسٹریز کی جگہوں کو کمرشل استعمال کرنے کا معاملہ پر سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ تھر کے دورہ مصروف تھے جواب کے لئے مہلت دی جائے،جس پر کمیشن نے جواب کے لئے سندھ حکومت کو مہلت یتے ہوئے چیف سیکریٹری سندھ کو 22 دسمبر کو طلب کرلیا کمیشن کا کہنا تھا کہ بتایا جائے کہ سندھ میں انڈسٹریز کی زمین کو کمرشل طور پر کیسے استعمال کیا جاسکتا ہے،انڈسٹریز کی زمین پر بڑے بڑے شاپنگ مال اور ٹاور کس قانون کے تحت بنائے جارہے ہیں،چیف سیکریٹری انڈسٹریز کی زمینوں کی پالیسی سے ہمیں آگاہ کریں، کمیشن میں حیدرآباد واٹر اینڈ سینی ٹیشن ایجنسی کے ملازمین کی جانب سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی کا معاملہ پر واسا ملازمین کا کہنا تھا کہ ہمارے واجبات دس ماہ سے ادا نہیں کیے، کمیشن سے درخواست ہے کہ ہمارے واجبات کی ادائیگی کو یقینی بنایا جائے، کمیشن نے ہدایت کی کہ سیکریٹری لوکل گورنمنٹ ملازمین کی انکوائری کے بعد تنخواہوں کی ادائیگی کو یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کریں،میئر سکھر کمیشن کے روبرو پیش ہوئے جہاں کمیشن کی جانب سے مئیر سکھر پر اظہار برہمی کیا گیا کمیشن کا کہنا تھا کہ آپ لوگوں نے سکھر کو تباہ کردیا ہے، کچرا سکھر میں پڑا ہے آپ کے مین روڈ پر بڑے بڑے گڑھے ہیں۔

(جاری ہے)

آپ کے سکھر میں کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں اس لئے آپ کے مزہ لگے ہوئے ہیں،دو فلٹر پلانٹ آپ سے ٹھیک نہیں ہوسکے،سکھر میں پانی بہہ رہا ہے مرمت کا کام تک آپ سے نہیں ہوتا،سکھر میں لوگ بغیر فلٹر پلانٹ کے پانی پی رہے ہیں، کمیشن نے سیکریٹری لوکل گورنمنٹ کو انکوائری کرنے کی ہدایت کی کمیشن نے کہا کہ3 روز میں سیکریٹری لوکل گورنمنٹ سکھر کے مسائل پر رپورٹ پیش کریں۔