صوبے میں خسرہ کی روک تھام کیلئے 95 فیصد تک ویکسنشین کی گئی ہے، وزیر صحت خیبر پختونخوا ہشام انعام اللہ خان

جمعرات دسمبر 20:25

پشاور۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 13 دسمبر2018ء) خیبر پختونخوا کے وزیر صحت ڈاکٹر ہشام انعام اللہ خان نے کہا ہے کہ محکمہ صحت میں بہتری اور عوام کو صحت کی سہولیات کی فراہمی میں آسانی لانے کیلئے بنایا گیا منصوبہ اور لائحہ عمل وزیر اعظم پاکستان عمران خان کو پیش کر دیا ہے، ان اقدامات اور اصلاحات کی بدولت عو ا م کو صحت کی اچھی سہولیات آسانی سے فراہم کرنے ،صحت سہولیات کو دیہاتی علاقوں تک پھیلانے کے ساتھ دور داراز علاقوں کے عام شہری مستفید ہونگے۔

اس حوالے سے جاری بیان کے مطابق وزیر صحت ڈاکٹر ہشام انعام اللہ خان نے ان خیالات کا اظہار اسلام آباد میں منعقدہ اجلاس میں وزیر اعظم پاکستان کو سو روزہ کار کردگی اور محکمہ صحت خیبر پختونخوا میں اصلاحاتی منصوبہ بندی سے متعلق بریفنگ دینے کے بعد کیا۔

(جاری ہے)

بیان کے مطابق وزیر صحت خیبر پختونخوا نے اجلاس کو اپنی سو روزہ کار کردگی کے حوالے سے بتایا کہ صحت سہولیات کی منصو بہ بندی میں سہولت کارڈ منصوبے کی توسیع، تمام صحت سہولیات کی فراہمی انسٹیٹیوٹس میں نئی صحت پالیسی کے مطابق بہتری اور فعالیت کے لئے ضروری اقدامات اور ضروریات کی نشاندہی،محکمہ صحت میںانسانی وسائل سے متعلق یونٹ کا قیام اور ہیلتھ کئیر کمشن کو مضبوط اور فعال بنانا شامل ہے ۔

انہوں نے اجلاس کو بتایا کہ صوبے میں خسرہ کی روک تھام کیلئے 95 فیصد تک ویکسنشین کی گئی ہے۔ عوامی شکایت کے فوری ازالہ اور میڈیا کی توجہ کیلئے میڈیا سیل قائم کیا گیا ہے۔ ہسپتالوں میں ریکارڈ برقرار رکھنے کیلئے جامع اقدامات اٹھائے گئے جبکہ ڈی ایف آئی ڈی کی طرف سے 3.2 ملین پاؤنڈ کی امداد کے تحت مقرر کیے گئے اہداف کی سو فیصد تکمیل کے ساتھ خیبر پختونخوا ہیلتھ پالیسی کی تیاری بھی کی گئی ہے۔ وزیر صحت نے اجلاس کو بتایا کہ میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوٹ ایکٹ میں ترمیم ، ادویات کے معیار کوجا نچنے کیلئے پالیسی اور پبلک پرائیویٹ پاٹنرشب کے تحت ادویہ ساز کمپنیوں کے ذریعے پانچ لاکھ مستحق مریضوں کو مفت علاج کی فراہمی کیلئے بھی اقدامات کیئے ہیں۔