یورپی یونین کی حکومت سے بین الاقوامی غیرسرکاری تنظیموں پر پابندی لگانے کی پالیسی پر غور کی درخواست

جمعرات دسمبر 23:23

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 13 دسمبر2018ء) یورپی یونین نے حکومت سے بین الاقوامی غیرسرکاری تنظیموں پر پابندی لگانے کی پالیسی پر غورکرنے کی درخواست کردی۔ پاکستان میں قائم یورپی یونین کے دفترسے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ یورپی یونین پاکستان میں نمائندگی رکھنے والی یورپی یونین کی ممبر ریاستوں کے سربراہان، اور آسٹریلیا، کینیڈا، جاپان، ناروے اور سوئزرلینڈ کے مشن کے سربراہان اس بات پر پختہ یقین رکھتے ہیں کہ گٴْڈ گورننس اور مشمولی ترقی کے لئے ایک متحرک سول سوسائٹی کی موجودگی ناگزیر ہے۔

وزیرِ اعظم عمران خان کی حکومت بھی ان معاملات کو فروغ دیتی ہے اور یہ معیاری ترقی کے اہداف (ایس، ڈی، جیز) میں بھی مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔

(جاری ہے)

ہم پاکستانی قیادت کے ساتھ اٴْن انٹرنیشنل این جی اوز (INGOs) کے معاملے پر بات چیت کرتے رہے ہیں جن کی رجسٹریشن کو سابقہ انتظامیہ نے ابتدائی طور پر منسوخ کر دیا تھا۔ ہم حکومتِ پاکستان کی طرف سے اس ضمن میں ڈائیلاگ کی حالیہ پیشکش کا خیر مقدم کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ اس ڈائیلاگ کا آغاز جلد کیا جائے گا۔

ہم INGOs کے لئے ایک رجسٹریشن پالیسی قائم رکھنے کے حکومتی استحقاق کا مکمل احترام کرتے ہیں لیکن اس کے اطلاق کے طریقہِ کار، واضح وجوہ کے بغیر مزید INGOs پر پابندی کے امکان، پاکستان کی سول سوسائٹی پر اس کے اثر، اور پاکستان میں گٴْڈ گورننس کے حصول اور مشمولی ترقی پر اس کے مضمرات کے بارے میں فکر مند ہیں۔حکومتِ پاکستان کی طرف سے 18 مشہور اور نیک نام INGOs کواپنا کام ختم کرنے کے لئے دی جانے والی ڈیڈ لائن اس ماہ کی ابتدا میں اپنے اختتام کو پہنچی اور ان کے پاس اپنا کام روک دینے اور چھ ماہ کے بعد دوبارہ درخواست دینے کے علاوہ کوئی چارہ نہ رہا۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستانی اداروں کو ملنے والا معاشی سہارا بھی کم ہو جائے گا کیونکہ زیادہ ترINGOs اپنے فرائض کی انجام دہی مقامی اداروں کی مدد سے کرتی ہیں۔ہم یہ یقین رکھتے ہیں کہ INGOs کی سرگرمیاں پاکستان میں ایس ڈی جیز کی تکمیل میں مددگار ہیں۔ ہماری رائے کے مطابق رد کی جانے والی INGOs ان مقاصد کے لئے مثبت کردار ادا کر رہی تھیں۔ بین الاقوامی اور قومی این جی اوز اپنی مہارت، لچک اور مشکل حالات میں بھی کام کرنے کی صلاحیت کے ساتھ پاکستان کو بیش قیمت مدد فراہم کرتی رہی ہیں اور حکومتِ پاکستان کے ساتھ ہمارے ممالک کی وسیع متعاون کارروائیوں کے لئے ناگزیر ہیں۔

ہم یہ درخواست کرتے ہیں کہ پاکستانی عوام، بالخصوص کمزور ترین شہریوں کے مفادات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے جلد از جلد کوئی حل تلاش کیا جائے تاکہ مزید INGOs کی کارروائیوں پر پابندی نہ لگائی جائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ شمیم محمود ، نامہ نگار