پولیس نے تاوان کیلئے اغواء کئے گئے نوجوان کے قاتل کو حراست میں لے کر نشاندہی پر لاش زیر زمین ٹینکی سے برآمد کرلی

بدھ دسمبر 23:15

حیدرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 19 دسمبر2018ء) حیدرآباد کے تھانہ پنیاری کی حدود سے تاوان کے لئے اغواء کئے گئے نوجوان کے قاتل کو پولیس نے حراست میں لے کر ملزم کی نشاندہی پر لاش زیر زمین ٹنکی سے برآمد کرلی مقتول احسان کو 16 دسمبر کے روز ملزم نے بہانے سے اپنے گھر لے جا کر مزاحمت پر قتل کردیا ۔ایس ایس پی حیدرآباد سرفراز نواز شیخ نے اس حوالے سے پولیس ہیڈ کوارٹر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ تھانہ پنیاری کی حدود رحمان ٹاؤن سے ملزم نعیم راجپوت نے 25 سالہ احسان کو بہانے سے اغواء کیا اور پھر اسی کے موبائل فون سے گھر والوں کو کال کرکے تی لاکھ روپے تاوان طلب کیا لیکن ملزم نوجوان کو تاوان ملنے سے قبل ہی مزاحمت کرنے پر ڈنڈوں کے وار کرکے قتل کرچکا تھا ملزم الیکٹریشن ہے اور گزشتہ 15 سال سے احسان کے گھر آنا جانا تھا اور بیٹے کی گمشدگی پر۔

(جاری ہے)

قتول کے والد نے پنیاری تھانے میں اطلاع دی جس کے بعد پولیس نے تفتیش شروع کردی تھی اس دوران مقتول احسان کے والد نے بتایا کہ ان کے بیٹے کے موبائل فون سے ہی تاوان کے لئے کال آئی جس کے بعد پولیس نے تفتیش کا دائرہ بڑھاتے ہوئے شک کی بنیاد پر نعیم راجپوت کو حراست یں لے کر پوچھ گچھ کی اس دوران ملزم نے قتل کا اعتراف کرلیا اور بتایا کہ وہ احسان کو موٹر سائیکل پر بٹھا کر اپنے گھر لے گیا اور وہ احسن کے گھر والوں سے تین لاکھ روپے تاوان لینا چاہتا تھا اور تاوان کی رقم لے کر موبائل فون خریدنے سمیت دیگر ضروریات پوری کرنا چاہتا تھا لیکن احسان کے مزاحمت کرنے پر ملزم نے اسے ڈنڈوں کے وار کرکے قتل کردیا اور لاش زیر زمین ٹنکی میں پھینک دی تاہم پنیاری تھانے پر ملزم کے خلاف اغواء برائے تاوان کا مقدمہ درج کرلیا ہے اور مذید تفتیش جاری ہے ایس ایس پی کا کہنا تھا کہ اس طرح کے معاملات میں پولیس فوری طور پر کاروائی نہیں کرتی پولیس بروقت ملزم کو گرفتار کرسکتی تھی لیکن مغوی کی موت کا خدشہ تھا لیکن ملزم احسن کو پہلے ہی قتل کر چکا تھا۔