سعودی ولی عہد پاکستان کا نہیں ایشیاء کا دورہ کررہےہیں،ڈاکٹرشاہد مسعود

سعودی ولی عہد پاکستان کے بعد چین، ملائیشیاء ، بھارت اور انڈونیشیاء کا بھی دورہ کریں گے،اس پورے دورے میں 300سے زائد کاروباری شخصیات کا وفد ان کے ساتھ ہوگا،اسی مہینے اسرائیلی وزیراعظم بھی بھارت جائیں گے۔ نجی ٹی وی کے پروگرام میں تبصرہ

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ پیر فروری 18:24

سعودی ولی عہد پاکستان کا نہیں ایشیاء کا دورہ کررہےہیں،ڈاکٹرشاہد مسعود
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔11 فروری2019ء) سینئر تجزیہ کار ڈاکٹر شاہد مسعود نے کہا ہے کہ سعودی ولی عہد کا دورہ پاکستان بری اہمیت کا حامل ہے، شہزادہ محمد بن سلمان پاکستان کا نہیں ایشیاء کا دورہ کررہے ہیں، سعودی ولی عہد اسی ماہ پاکستان کے بعد چین، ملائیشیاء ، بھارت اور انڈونیشیاء کا بھی دورہ کریں گے،اس پورے دورے میں 300سے زائد کاروباری شخصیات کا وفد ان کے ساتھ ہوگا،اسی مہینے اسرائیلی وزیراعظم بھی بھارت جائیں گے۔

انہوں نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان پاکستان کے دورے پر آرہے ہیں ، ان کا دورہ بڑی اہمیت کا حامل ہے، سعودی ولی عہد پاکستان کا ہی نہیں بلکہ پانچ ممالک کا دورہ کررہے ہیں۔دورہ پاکستان کے بعد سعودی ولی عہد چین، ملائیشیاء ، انڈونیشیاء اور پھر اسی مہینے بھارت کا بھی دورہ کریں گے۔

(جاری ہے)

سعودی ولی عہد کے ساتھ تین سو زائد اہم کاروباری شخصیات بھی وفد میں شامل ہیں۔

یہ تمام شخصیات پانچوں ممالک کے دورے پر ان کے ساتھ ہوں گی۔انہوں نے کہا کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا دورہ صرف پاکستان کا دورہ نہیں ہے بلکہ ایشیاء کا دورہ ہے۔ پوری دنیا کی نظریں سعودی ولی عہد کے دورے پر مرکوز ہیں۔اس کے ساتھ یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ اسی مہینے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو بھی بھارت کے دورے پر جارہے ہیں۔بتایا جا رہا ہے کہ سعودی ولی عہد کے دورہ پاکستان میں 14ارب ڈالر کے معاہدے ہوں گے، لیکن یہ معاہدے نجی کمپنیوں کے درمیان میں ہوں گے یا کیسے ہوں گے؟ اس کی تفصیلات بھی سامنے آجائیں گی۔

انہوں نے کہا کہ ایک طرف تو سعودی ولی عہد کا دورہ پاکستان ہے دوسری طرف سسٹم عمران خان کی حکومت کو چلنے نہیں دے رہا ۔ نوازشریف کی بیماری کی بنیاد پر ضمانت کی درخواست پر سماعت منگل کوہوگی۔آصف زرداری نے نظرثانی درخواست جمع کروا رکھی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ڈیل یا این آراو نہیں ہوگا۔ریاست نے آگے جانا ہے۔ سسٹم ادھر ادھر ہوسکتا ہے لیکن احتساب کا عمل نہیں رکے گا۔