اپنے دور میں کبھی بھی حدود سے تجاوز نہیں کیا ، جسٹس میاں ثاقب نثار

تمام اقدامات اور فیصلے قانون کے دائرے میں رہ کر کیے، میں اپنے اقدامات کو لازمی طور پر درست قرار دوں گا،سابق چیف جسٹس

پیر اپریل 22:34

اپنے دور میں کبھی بھی حدود سے تجاوز نہیں کیا ، جسٹس میاں ثاقب نثار
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 08 اپریل2019ء) سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے ایک مرتبہ پھر دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ انہوں نے اپنے دور میں حدود سے تجاوز نہیں کیا اور تمام اقدامات اور فیصلے قانون کے دائرے میں رہ کر کیے۔ غیر ملکی خبررساں ادارے کو انٹرویو کے دورا ن سابق چیف جسٹس نے جواب دیا کہ میں اپنے اقدامات کو لازمی طور پر درست قرار دوں گا، ہمارے ہاں 28 بنیادی حقوق ہیں اور اس کا آغاز ہوتا ہے زندگی کے حق سے اور اگر اس کے معنی میں جائیں تو تمام حقوق اس سے ہی منسلک ہیں۔

انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ 'میں نے بہت سے معاملات کا نوٹس لیا اور یہ طویل فہرست ہے، جس میں تعلیم کا حق، صحت کا حق، ڈیم کا معاملہ، امتیازی سلوک جو جیل میں روا رکھا جارہا تھا اور اس کے علاوہ دیگر معاملات ہیں، ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے جن معاملات میں نوٹس لیا، ان کو دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ انہوں نے کسی بھی معاملے میں سیاسی مداخلت نہیں کی۔

(جاری ہے)

سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے مزید کہا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد میں جوابدہ نہیں ہوں لیکن اس کے باجود میں لوگوں کی تسلی کے لیے ایسا کرنے کو تیار ہوں۔انہوں نے کہا کہ جج کے 2 مختلف قسم کے نقطہ نظر ہوتے ہیں جن میں ایک 'جوڈیشل ریسٹرین' ہے جبکہ دوسرا 'جوڈیشل ایکٹوزم' ہے اور دونوں ہی قابل عمل ہیں۔انہوں نے اپنی بات کی مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ جوڈیشل ریسٹرین سے مراد ہے کہ جج کسی بھی معاملے میں ریسٹرین (روکنی) کرتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ کام ایگزیکٹو کو کرنا چاہیے کیوں کہ یہ اس کے اختیار میں آتا ہے، انہوں نے کہا کہ دوسری صورت میں جب انتظامی فقدان ہو تو کیا بنیادی حقوق پر عمل درآمد کرنے کے عمل کو چھوڑ دینا چاہیی ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک وجہ تھی جس کے باعث جوڈیشل ایکٹوزم کے نقطہ نظر پر عمل کیا گیا اور ساتھ یہ واضح کیا کہ انہوں نے اپنے اختیارات سے تجاوز نہیں کیا۔

میزبان نے ان سے سوال کیا کہ ڈیم فنڈز میں سے آگاہی مہم پر مزید کتنی رقم خرچ ہوگی جس پر سابق چیف جسٹس نے کہا کہ پاکستان الیکٹرونک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کے قوانین اور میڈیا لائسنس کے حصول کے حوالے سے موجود ضابطے میں یہ چیز موجود ہے کہ عوام کی آگاہی کے لیے دیئے جانے والے پیغامات (پبلک سروس میسج) کے لیے نشریاتی اداروں کو مخصوص وقت اور اخبارات کو مخصوص جگہ دینی ہوگی۔