تحریک انصاف میں کوئی گروپ بندی نہیں ہے اورنہ ہی ہونی چاہیے،

عمران خان ٹیم کے کپتان ہیں وہی فیصلہ کریں گے کہ کس کوکہاں کھیلناہے اورکس سے کیاکام لیناہے وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی کی میڈیا سے گفتگو

جمعہ اپریل 00:18

تحریک انصاف میں کوئی گروپ بندی نہیں ہے اورنہ ہی ہونی چاہیے،
ملتان ۔18اپریل(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 18 اپریل2019ء) وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی نے کہاکہ تحریک انصاف میں کوئی گروپ بندی نہیں ہے اورنہ ہی ہونی چاہیے مختلف لوگوں کی مختلف رائے ہوتی ہے اورجمہوریت میں اختلاف رائے ہوتابھی ہے ۔عمران خان ٹیم کے کپتان ہیں وہی فیصلہ کریں گے کہ کس کوکہاں کھیلناہے اورکس سے کیاکام لیناہے ۔جمعرات کو میڈا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسدعمر تحریک انصاف کے کارواں کے صف اول کے سپاہی تھے ہیں اوررہیںگے ۔

مشکل حالات میں جس تندہی اورایمانداری سے انہوںنے اپنی ذمہ داریاں اداکی ہیںان کی کاوشوں کامعترف ہوں ۔انہوںنے کہاکہ پی ٹی آئی کی حکومت کواقتدار سنبھالتے ہی تاریخی تجارتی ومالیاتی خسارہ کی معیشت ورثے میں ملی تھی قرضے تاریخی حدوں کو چھورہے تھے ، سابقہ حکومتوں نے بے دریغ لے کرایسے پروجیکٹس پرخرچ کئے جوعوام کوزیادہ فوائد نہ دینے والے تھے ۔

(جاری ہے)

زراعت اورمینوفیکچرنگ ان کی ترجیح نہیںتھے ۔ڈائریکٹ بیرونی انویسمنٹ بہت گررہی تھی ۔بے دردی سے ملکی خزانہ لوٹاگیا۔ڈالرکومصنوعی طورپرخاص سطح پررکھاگیا۔ پی ایم ایل (این )کی حکومت نے اقتدار سنبھالتے ہی480ارب روپے کاگردشی قرضہ یک مشت اداکردیالیکن جب وہ اقتدارسے گئے تو1200ارب کاگردشی قرضہ پھرچھوڑ گئے ۔عمران خان نے ملک کے بہتر مستقبل کے لئے مشکل فیصلے کئے ہیں تاہم معیشت کی بہتری میں وقت لگے گا۔

انہوںنے کہاکہ بارشوں نے شدید نقصان کیاہے ۔ضلعی حکومتوں کوکہاہے کہ وہ نقصانات کی رپورٹ تیارکرکے حکومت کودیں جس کے بعد نقصانات والے اضلاع کو آفت زدہ قراردیاجائے گا۔ہم کسانوں کے مسائل کوسمجھتے ہیں ۔وزیرخارجہ نے کہاکہ دہشت گردی سے ہمارے حوصلے پست نہیں ہوں گے ہم نے پہلے بھی دہشت گردوں کامقابلہ کیاہے اب بھی اس کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے پوری قوم ہم سے فوج کے ساتھ کھڑے ہیں ۔

انہوںنے کہاکہ بھارت نے پلوامہ کے معاملے پرغیر ذمہ دارانہ رویہ اپنایاکچھ قوتیں پاکستان کاامن تباہ کرناچاہتی ہیںہم سب کومل کر ان قوتوں سے لڑناہے ملک میں فرقہ واریت کی آگ لگانے کی کوشش ہورہی ہیں، ہزارہ کمیونٹی کے ساتھ ظلم ہواہے ۔انہوںنے کہاکہ بھارتی پائلٹ کوامن کے لئے غیرمشروط طورپررہاکیا،بھارت کے ساتھ مسائل کاحل صرف مذاکرات ہی ہیں ۔

شاہ محمودقریشی نے کہاکہ صدارتی نظام کی باتیں قیاس آرائیاں ہیں ایسا کچھ نہیں ہے ۔انہوںنے کہاکہ نیب آزاد اورخودمختار ادارہ ہے اس کوآزادانہ کام کرنے دیں جن کیسز پروہ کام کررہاہے یہ پی ٹی آئی کی حکومت نے نہیں بنائے سابقہ دورمیں بنائے گئے تھے ۔اب نیب زدہ سیاست دان اپنے کیسز کوسیاست کی نذرکرناچاہتے ہیں تاہم عوام بھی یہی چاہتی ہے کہ کرپٹ لوگوں کاسخت احتساب ہو۔ایک سوال کے جواب میںشاہ محمودقریشی نے کہاکہ بھارت میں انتخابات ہورہے ہیں وہاں جو بھی منتخب حکومت ہوگی ہم اس سے مذاکرات کے ذریعے باہمی مسائل کے حل کے لئے کام کریں گے ۔