نائن الیون کے بعد مسلمانوں کےخلاف ایک اور منصوبہ تیار

نوٹرے ڈیم کیتھڈرل کو لگی آگ انتہا پسند مغربی مسلمانوں کی سازش قرار دے رہے ہیں

Sajjad Qadir سجاد قادر جمعہ اپریل 06:56

نائن الیون کے بعد مسلمانوں کےخلاف ایک اور منصوبہ تیار
لاہور(اردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔19اپریل2019ء) مغرب میں اسلاموفوبیا جس تیز رفتاری سے بڑھ رہا ہے وہ کسی سوچی سمجھی سازش کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے۔جس طرح سے نائن الیون کے حادثے کی آڑ میں امریکہ نے افغانستان پر چڑھائی کی اسی طرح نوٹرے ڈیم کولگی آگ کو ایشو بنا کر مغرب میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کو ابھارا جا رہا ہے۔اس واقعہ سے چند ہفتے قبل نیوزی لینڈ میں ایک مسجد میں سفید فام دہشت گرد نے پچاس کے قریب مسلمانوں کو شہید کر دیا تھا۔

اس واقعے پر پوری دنیا میں رنج و غم تھااور دنیا میں کسی حد تک مسلمانوں کے ساتھ ہمدردی پیدا ہوئی تھی۔مگر یہ چیز اسلام دشمنوں کو پسند نہیں آئی اور وہ اس بات کو ہضم کرنے کو تیار نہیں ہوئے کہ دنیا بھر میں مسلمانوں کے لیے ہمدردی میں اضافہ ہو رہاہے۔

(جاری ہے)

اسی دوران نوٹرے ڈیم میں آگ بھڑک اٹھی جس کے نتیجے میں عبادت گاہ کا زیادہ حصہ خاکستر ہو گیا۔

اس حادثے کی تحقیقات ابھی جاری ہیں کہ آگ کیوں لگی تاہم اس کی تعمیر نو کا کام بھی شروع کیا جا چکا ہے۔مگر اس حادثے کو لے کر سوشل میڈیا پر ایسا بھونچال آیا ہوا ہے کہ شاید یہ آگ مسلمانوں نے سازش کر کے لگائی ہے۔حالانکہ ایسا کوئی ثبوت ان کے پاس نہیں اور نہ ہی حکومتی سطح پر ایسی بات کی گئی ہے مگر سوشل میڈیا کے ذریعے سفید فام انتہا پسند پروپیگنڈا کر رہے ہیں کہ اس تاریخی عبادت گاہ نوٹرے ڈیم کو لگی آ گ کے پیچھے مسلمانوں کی سازش ہے اور انہوں نے نیوزی لینڈ میں اپنے مسلمان بھائیوں کا بدلہ لینے کی خاطر فرانس میں یہ سب کیا ہے جبکہ اس بات میں کسی قسم کی کوئی صداقت نہیں۔

یہ محض سوشل میڈیا پر سفید فام انتہا پسند مغرب میں اسلاموفوبیا کو بڑھاوا دینے کے لیے پروپیگنڈا کر رہے ہیںیاد رہے کہ نیوزی لینڈ میں کرائسٹ چرچ مسجد میں پچاس نمازیوں کو شہید کرنے والے سفید فام دہشت گرد کی پشت پناہی فرانس کر رہا ہے اور اس کا کیس لڑنے والے وکلا کا تعلق بھی فرانس سے ہے۔