جہانگیر ترین کی اسمبلی ارکان سے ملاقاتیں کس تبدیلی کا پیش خیمہ

پنجاب میں متحرک ہونے کے ساتھ وفاقی وزرا سے بھی فرداً فرداً ملاقات کے پس پردہ کہانی کیا ہے

Sajjad Qadir سجاد قادر جمعہ اپریل 06:53

جہانگیر ترین کی اسمبلی ارکان سے ملاقاتیں کس تبدیلی کا پیش خیمہ
لاہور۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 اپریل2019ء)   جہانگیر ترین پی ٹی آئی راہنماﺅں کی فہرست میں وہ نااہل شخص ہیں جنہوں نے عدالت سے نااہل ہونے کے بعد بھی سیاست اور اپنی پارٹی کو نہیں چھوڑا۔کہنے والے یہ بھی کہتے ہیں الیکشن سے قبل جب جہانگیر ترین نااہل ہو گئے تھے اگر اس وقت وہ سیاست اور پی ٹی آئی سے کنارہ کش ہو جاتے تو آج ملک میں پی ٹی آئی کی حکومت ہی نہ ہوتی۔

مگر یہ جہانگیر ترین ہی تھے جنہوں نے اپنے جہاز میں آزاد امیدوار اور دیگر پارٹیوں کے لوٹے سیاستدانوں کو جھولی بھر بھر کر عمران خان کی گود میں ڈالا اور ان کی پارٹی کومضبوط کرنے کے ساتھ ان کی حکومت بنانے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔تاہم پی ٹی آئی کی حکومت قائم ہوئے آج 8ماہ گزر چکے ہیں مگر تبدیلی کہیں دکھائی نہیں دیتی۔

(جاری ہے)

عوام کے حالات جوں کے توں ہیں البتہ حکومتی وزرا کی تبدیلیاں شروع ہو گئی ہیںکیونکہ جن قابل وزرا کو پہلے کابینہ میں شامل کیا گیا تھا وہ نااہل ثابت ہوئے اور اب ان کی جگہ اور لوگ ڈالے جا رہے ہیں۔

اس وقت جس بڑی تبدیلی کی توقع کی جا رہی ہے وہ پنجاب میں وزیر اعلیٰ اور گورنر کی کرسی کی ہے۔جب سے پنجاب میں تبدیلی کی افواہ اڑی ہے اسی دن سے جہانگیر ترین صاحب بھی ایکٹو ہو گئے ہیں اور مختلف وزرا سے فرداً فرداً ملاقاتیں جاری رکھے ہوئے ہیںپچھلے دو ہفتوں سے جہانگیر ترین نے لاہور اور اسلام آباد میں کوئی درجن بھر کے قریب وزرا سے ملاقاتیں کیں اور سیاسی امور پر بات چیت کی ہے۔

پی ٹی آئی رہنماپچھلے 42 گھنٹے میں ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی سمیت 11 سے زائد ارکان قومی اسمبلی سے ملاقاتیں کر چکے ہیں۔ جہانگیر خان ترین سے ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری، ایم این اے عبدالشکور شاد، رکن قومی اسمبلی راجہ ریاض، رضا نصراللہ گھمن، جاوید وڑائچ نے ملاقات کی۔ ملاقات کرنے والوں میں پی ٹی آئی ارکان قومی اسمبلی ابراھیم خان، عبد الغفار وٹو، فیض کموکا، جی ڈی اے کے ایم این اے غوث بخش مہر اور آزاد ایم این اے اسلم بھوتانی بھی شامل ہیں۔تاہم ان ملاقاتوں کی وجہ ابھی تک سامنے نہیں آ سکی۔کہا یہی جا رہا ہے کہ ممکنہ تبدیلیوں کے حوالے سے جہانگیر ترین صاحب اپنا گروپ مضبوط کرنے کے چکر میں ہیں جس کا پتا آمدہ ایک دو ہفتوں میں لگ جائے گا۔