آئل ٹینکرز پرحملوں میں ایران کا ہاتھ ہے، شہزادہ محمد بن سلمان

خطرات سے نمٹنے میں کسی ہچکچاہٹ سے کام نہیں لیں گے، خطے میں کشیدگی کے پیچھے القاعدہ، داعش، اخوان المسلمون اور ایران کی پالیسیاں شامل ہیں، سعودی عرب اور امریکا اسٹریٹجک تعلقات میں بندھے ہوئے ہیں۔سعودی ولی عہد کا انٹرویو

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ اتوار جون 21:07

آئل ٹینکرز پرحملوں میں ایران کا ہاتھ ہے، شہزادہ محمد بن سلمان
ریاض (اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔16 جون 2019ء) سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا ہے کہ آئل ٹینکرز پرحملوں میں ایران کا ہاتھ ہے، خطرات سے نمٹنے میں کسی ہچکچاہٹ سے کام نہیں لیں گے، خطے میں کشیدگی کے پیچھے القاعدہ، داعش، اخوان المسلمون اور ایران کی پالیسیاں شامل ہیں، سعودی عرب اور امریکا اسٹریٹجک تعلقات میں بندھے ہوئے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے عرب اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب خطے میں امن چاہتا ہے جنگ نہیں چاہتا۔

لیکن قومی مفادات کو لاحق خطرات سے نمٹنے میں کسی ہچکچاہٹ سے کام نہیں لیں گے۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے کہا کہ خلیج عمان میں دو آئل ٹینکرز پر حملوں کے پیچھے ایرانی حکومت کا ہاتھ ہے۔

(جاری ہے)

محمد بن سلمان نے کہا کہ ہم ایران سے چاہتے ہیں کہ وہ خطے میں دشمن سرگرمیاں بند کرے اور اپنی عوام کی دیکھ بھال کرے۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے کہا کہ عالمی برادری مشرق وسطی میں نئی کشیدگی سے متعلق فیصلہ کن موقف اختیار کریں۔

خطے میں کشیدگی اور خانہ جنگی کے پیچھے القاعدہ، داعش، اخوان المسلمون اور ایران کی پالیسیاں شامل ہیں۔ محمد بن سلمان نے کہا کہ سعودی عرب اور امریکا اسٹریٹجک تعلقات میں جڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی حکومت نے تہران میں جاپان کے وزیراعظم کی بطور مہمان موجودگی کا بھی خیال نہ کیا اور ان کی سفارتی کوششوں کا جواب دو آئل ٹینکرز پر حملے کی صورت میں دیا جن میں سے ایک جاپانی تھا۔

شہزادہ محمد بن سلمان نے 12 مئی کو خلیج کے پانیوں میں چار آئل ٹینکر ز پر ہونے والے حملوں کا الزام بھی ایران اور اس کے حامیوں پر عائد کیا۔ آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی برادری نے تشویش کا اظہار کیا تھا۔ سعودی ولی عہد نے کہا کہ ایرانی حکمرانوں نے جاپانی وزیراعظم کی اپنے ملک میں موجودگی تک کا پاس نہ رکھا اور جاپانی وزیراعظم کی تہران میں موجودگی کے دوران ہی آئل ٹینکرز پر حملہ کر دیا۔

شہزادہ محمد بن سلمان نے یہ بھی کہا کہ ’ہم نے دہشت گردی کی حمایت کرنے اور کئی عشروں سے خطے میں تباہی و بربادی اور قتل و غارت گری پھیلانے پر ایران کے خلاف عالمی برادری سے ٹھوس موقف کا جو مطالبہ کیا تھا اس کی اہمیت خلیج میں آئل ٹینکرز، سعودی تیل تنصیبات اور ابہا ایئرپورٹ پر میزائل حملوں سے اجاگر ہوگئی ہے۔