Live Updates

جو کچھ ہمارے ساتھ ہو رہا ہے کچھ مہینے بعد عمران خان کیساتھ ہو گا،وہیں آئینگے جہاں ہم سب موجود ہیں‘ سعد رفیق

پروڈکشن آڈراس لئے جاری نہیں کئے جارہے کیونکہ مزید اپوزیشن رہنمائوں کو گرفتار کرنے کا پروگرام ہے ریلوے کی بھلائی کے لیے مجھ سے مشورہ لے لیں بھلا کریڈٹ نہ دیں‘ احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر گفتگو

منگل 16 جولائی 2019 13:42

جو کچھ ہمارے ساتھ ہو رہا ہے کچھ مہینے بعد عمران خان کیساتھ ہو گا،وہیں ..
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 16 جولائی2019ء) پیرا گون ہائوسنگ سکینڈل میں گرفتار مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ جو کچھ ہمارے ساتھ ہو رہا ہے کچھ مہینے بعد عمران خان کے ساتھ ہو گا اور وہ بھی وہیں آئیں گے جہاں ہم سب موجود ہیں،ہم نہیں چاہتے کہ جو زیادتی ہمارے ساتھ ہوئی وہ عمران خان یا اس کی جماعت کے ساتھ ہو، پلوں کے نیچے سے کافی پانی بہہ گیا لیکن بہت کچھ ابھی بھی ہاتھ سے نہیں گزرا،یہاں آمریتیں آتی رہی ہیں لیکن ان کے جنازے اٹھتے رہے ہیں ،آج ملک پر سول آمریت مسلط ہے اور سول فیس عمران خا ن کا ہے ۔

احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ اپوزیشن کو رگڑا لگانے کی بجائے میثاق جمہوریت اور میثاق معیشت پر بات کر لی جائے، اگر وقت گزر گیا توپھر یہ باتیں کہنے والے باقی نہیں رہیں گے اور پھر مزاحمت کرنے والے اور حکومت جانے ۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ اگر یہ سمجھا جارہا ہے کہ روڈ رولر چلا کر اپوزیشن کو ختم کر دیا جائے گااور مخالف آواز کو دبا دیا جائے گاتو یہ بنانا اسٹیٹ نہیں بلکہ 22کروڑ عوام کا ایٹمی ملک ہے ۔

عمران خان جو کچھ کر رہے ہیں وہ اس کی ذمہ داری لے رہے ہیں اور کرنے سے پہلے ڈنکا بجاتے ہیں اور مجھے نہیں معلوم کہ اس کا نتیجہ کیا ہوگا اور یہ انہیں بھی اس کا معلوم نہیں ۔ کچھ مہینے بعد انہیں بھی وہیں تشریف لانا پڑے گی جہاں ہم سب موجود ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ سب کچھ دبائو کے تحت کیا جارہا ہے ، گرفتار یاں او رمقدمات دبائو کے تحت ہو رہے ہیں ۔

ہمارے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے اس کی کہانی میرے پاس موجود ہے لیکن میں اسے سامنے لا کر ایک نئی لڑائی شروع نہیں کرنا چاہتا۔ انہوں نے کہا کہ جو فیصلے کرتے ہیں انہیں دبائو کی بجائے اپنے ضمیر کے مطابق فیصلے کرنے چاہئیں ،اگر وہ دبائو کی وجہ سے انصاف پر مبنی فیصلہ نہیں کر سکتے تو فیصلہ نہ کریں اور کیس کو کہیں اور بھیج دیں لیکن فیصلہ بھی کر دینا اور اور بعد میں افسوس کرنا کہ زیادتی ہوئی ہے یہ درست طریقہ نہیں ہے ۔

انہوںنے کہاکہ دنیا میں جہاںبھی جمہوریت ہے وہاں پر پروڈکشن آڈرجاری ہوتے ہیں ۔ یہاں پروڈکشن آڈر اس لئے نہیں جاری کئے جارہے کیونکہ اپوزیشن کے اور رہنمائوں کو گرفتار کرنے کا پروگرام ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اس طرح کے حربے تو پرویز مشرف کے دور میں استعمال نہیں ہوئے ، اس وقت ہمارے جسموں پر زخم لگائے جاتے تھے لیکن آج روح پر زخم لگائے جارہے ہیں اور یہ زیادہ گہرے ہوتے ہیں ۔

ہم نے مریخ پر چلے جانا ہے اور نہ ہی ملک چھوڑنا ہے ، ہمارے بچے اور فیملیاں یہاں ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ چیئرمین سینیٹ کے لیے حاصل بزنجو بہترین انتخاب ہے ،موجودہ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی شریف انسان ہیں لیکن ان کے پاس اکثریت نہیں ۔انہوں نے کہا کہ شیخ رشید کی موجودگی میں ریلوے کا کوئی مستقبل نہیں ۔فریٹ ٹرینوں کی تعداد میں اضافہ نہیں کیا گیا جو ریلوے کو پچاس کڑوڑ سے زائد منافع دے سکتی ہے، حادثات ہونے کی بنیادی وجہ زیادہ ٹرینیں ٹریک پر لانا ہے ۔

میں نے اپنے دور میں 28 فیصد کرائے کم کیے لیکن شیخ رشید نے اسے بار بار بڑھایا، جب بھی تیل کی قیمتیں بڑھیںہم نے ریلوے کے کرائے کم کیے۔ انہو ں نے کہا کہ مجھے نہیں لگتا سی پیک شیخ رشید یا عمران خان کے دور میں آئے گا۔شیخ رشید کو ایم ایل ون کے منصوبوں کو بڑھانے کے لیے ٹریک پر پسنجر ٹرین آدھی کرنے پڑیںگی ۔انہوںنے کہا کہ ریلوے کی بھلائی کے لیے فری سروس دینے کے لیے تیار ہوں،مجھ سے مشورہ لے لیں بھلا کریڈٹ خود لے لیںلیکن ریلوے کو برباد نہ کریں ، آپ تو چلے جانا ہے لیکن محکمہ تباہ ہو جائے گا۔

انہوں نے اپوزیشن کی ہڑتال کے حوالے سے کہا کہ یہ تاریخ کی کامیاب ترین ہڑتال تھی اور یہ پہلی ہڑتال ہے جسے کسی سیاسی جماعت کی سرپرستی حاصل نہیں تھی ۔ اس سے ثابت ہو گیا ہے کہ کاروباری طبقہ حکومت کی معاشی پالیسیوں سے نالاں اور تنگ ہے ۔ اس طرح کے حالات حکومتوں کے آخری دنوں میں ہوتے ہیں لیکن عمران خان کی حکومت کے پہلے سال میں اس طرح کی ہڑتال ہوئی ہے ۔
Live عمران خان سے متعلق تازہ ترین معلومات