سرکاری ٹھیکے داروں نے لوکل گورنمنٹ ٹینڈر فیس کی وصولی کو غیر قانونی قرار دے دیا

افسران سرکاری حکم نامے کے باوجود ٹینڈر فارم کے نام پر مقامی ٹھیکیداروں سے ہزاروں روپے لیکر قومی خزانے کو لاکھوں روپے نقصان پہنچارہے ہیں: انجینئر سینہ گل آفریدی

بدھ اگست 16:14

ضلع خیبر، تحصیل باڑہ(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 7 اگست 9 201ء، نمائندہ خصوصی، حُسین آفریدی) میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے گورنمنٹ کنٹریکٹرز حاجی اختیار شاہ آفریدی اور انجینئر سینہ گل آفریدی نے کہا کہ محکمہ لوکل گورنمنٹ کے ٹینڈر فارم پر فیس وصولی کو کیپرا رولز کی خلاف ورزی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مذکورہ افسر نے اپنے قوانین بنائے ہیں جو کہ ٹھکیداروں کے ساتھ ظلم ہے۔

انجینئر سینہ گل آفریدی نے کہا کہ محکمہ لوکل گورنمنٹ ضلع خیبر کے افسران سرکاری حکم نامے کے باوجود ٹینڈر فارم کے نام پر مقامی ٹھیکیداروں سے ہزاروں روپے لیکر قومی خزانے کو لاکھوں روپے نقصان پہنچارہے ہیں جبکہ اس غیر قانونی دھندے کے خلاف ضلعی حکومت کے متعلقہ حکام خاموش ہے۔انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں خیبر کنٹریکٹرز کے تمام ٹھیکیداروں سے مشاورت کی جائے گی اور احتجاج کے طور پر کل کیپرا کے متعلقہ حکام سے بھی ملاقات ہوگی جن کو اس غیر قانونی عمل کو رکھنے کی درخواست کی جائے گی۔

(جاری ہے)

حاجی اختیار شاہ نے کہا کہ ضلع خیبر کے لوکل گورنمنٹ نے اندھیر نگری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ڈپٹی کمشنر کی آغوش میں ٹھیکیداروں کو سرکاری خزانے کے نام پر لوٹنا شروع کیا ہے جو کسی طرح منظور نہیں۔ انہوں نے محکمہ لوکل گورنمنٹ کے حکام پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ مذکورہ محکمہ کے علاوہ ضلع خیبر میں کوئی بھی محکمہ ٹینڈر فارم کی فیس وصول نہیں کرتے اور یہ واحد محکمہ ہے جنہوں نے قبائلی ٹھیکیداروں کو ٹینڈر میں حصہ نہ لینے پر مجبور کیا۔

حاجی اختیار شاہ نے مزیدکہا کہ یہ محکمہ ورک ایکسیپٹنس، ورک آرڈر اور کمیشن کے نام بھی لاکھوں روپے ٹھیکیداروں سے لے رہے ہیں اور انکار کی صورت میں کام مکمل کرنے کے بعد بھی بل پاس نہیں ہوتے لیکن کوئی پرسان حال نہیں۔ انہوں نے صوبائی حکومت کیپرا حکام اور سیکٹری لوکل گورنمنٹ سے مطالبہ کیا کہ کیپرا رولز کی خلاف ورزی اور صوبائی حکومت کے احکامات پس پشت ڈال کر لوکل گورنمنٹ ضلع خیبر کے حکام کے خلاف تحقیقات کئے جائیں اور کرپشن کرنے والے افسران کو سخت سزا دی جائے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ سیکر ٹری لوکل گورنمنٹ سے حال ہی میں ہونے والے غیر قانونی ٹینڈر کوختم کرکے اسے کیپرا رولز کے مطابق ری ٹینڈر کیا جائے۔ اس حوالے سے جب اسسٹنٹ ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ ضلع خیبر سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ میں نے ٹینڈر فیس اور طریقہ کار کے حوالے سے کیپرا سے باقاعدہ اجازت لی ہے اور کسی قسم کی غیر قانونی رقم نہیں لی جارہی ہے بلکہ ٹینڈر فارم کی مد میں حاصل ہونے والی رقم قومی خزانے جمع کئے جاتے ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ جو کچھ کر رہے ہیں عین قانون کے مطابق ہے اب تک ٹینڈر میں 30 تک ٹھیکیداروں نے ٹینڈر فارم حاصل کئے جن سے فیس وصول کی گئی ہے۔

متعلقہ عنوان :