مرغے کے صبح سویرے بانگ کیوں دی، عدالت میں کیس دائر

بانگ دینا فطرت کاحصہ ہونے پر مرغا اپنے خلاف کیس جیت گیا

Sajjad Qadir سجاد قادر ہفتہ ستمبر 05:58

مرغے کے صبح سویرے بانگ کیوں دی، عدالت میں کیس دائر
لاہور ۔  (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 ستمبر2019ء)   مرغے کی فطرت ہے کہ وہ صبح ہوتے ہی بانگ دینا شروع کر دیتا ہے۔تاہم دنیا میں کچھ ایسے افراد بھی موجود ہیں جو مرغوں کی جانب سے علی الصباح دی جانے والی بانگ سے بیزار ہوتے ہیں اور وہ مرغوں کی ایسی فطرتی عادت کو اپنی نیند میں خلل تصور کرتے ہیں۔ایسا ہی کچھ فرانس کے ایک جوڑے کو بھی محسوس ہوا اور انہوں نے علی الصباح بانگ دینے والے مرغے کے خلاف عدالت میں کیس کردیا۔

تاہم عدالت نے چند سماعتوں اور وکلاء کے درمیان زبردست بحث کے بعد انسانوں کے بجائے مرغے کے حق میں فیصلہ دے کر فطرت میں مداخلت نہیں کی۔ فرانس کے ایک معمر جوڑے نے ایک مرغے اور اس کے مالکان پر محض اس لیے کیس کردیا تھا کہ مرغا علی الصباح بانگ دیتا تھا جس سے ان کی نیند خراب ہوتی تھی۔

(جاری ہے)

شکایت کرنے والا جوڑا مغربی فرانس کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں چھٹیاں گزارنے گیا تھا، جہاں ان کے پڑوسیوں کا مرغا بانگ دیتا تھا۔

چھٹیاں گزارنے کے لیے جانے والے جوڑے نے علی الصباح مرغے کی بانگ سے تنگ آکر مرغے اور مالکان کے خلاف مقامی عدالت میں کیس کردیا اور دعویٰ کیا کہ مرغے کی بانگ سے ان کی نیند میں خلل پڑا۔ مقامی عدالت میں کیس کی چند سماعتیں ہوئیں اور مرغے کے مالکان نے بھی کیس کا دفاع کیا اور مؤقف اختیار کیا کہ بانگ دینا مرغے کی فطرت میں شامل ہے اور اسے علی الصباح بانگ دینے سے نہیں روکا جا سکتا۔

اس کیس کو فرانس کی میڈیا میں شاندار ماضی کی دیہی زندگی اور جدید زندگی کے طور پر رپورٹ کیا گیا، ساتھ ہی کیس کو عدالت لے جانے والے سیاح جوڑے اور مقامی افراد کو شہری اور دیہاتی لوگوں کے طور پر رپورٹ کرکے موازنہ کیا گیا۔عدالت نے دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد 5 ستمبر کو مرغے اور اس کے مالکان کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے کہا کہ مرغے کو علی الصباح بانگ دینے سے نہیں روکا جا سکتا۔

متعلقہ عنوان :