طالبان سے مذاکرات ختم ہو چکے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ

افغان طالبان نے جو کچھ کیا یہ انہیں نہیں کرنا چاہیے تھا

Sajjad Qadir سجاد قادر منگل ستمبر 05:49

طالبان سے مذاکرات ختم ہو چکے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
لاہور ۔ (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔10ستمبر۔2019ء)   بعض اوقات انسان کی ایک غلطی زندگی بھر کے پچھتاوے کا سبب بن جاتی ہے۔اس وقت اگر امریکہ بھی افغانستان میں طالبان سے مذاکرات کرنے کے بعد پہاڑوں سے نکل نہیں جاتا تو اس کا بھی یہ فیصلہ تاریخ کے بڑے غلط فیصلوں میں سے ایک ہو گا۔امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان سے 18 سالہ جنگ کو ختم کرکے اپنی فوج واپس بلانے کے لیے طالبان کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کو 'مردہ' قرار دے دیا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں رپورٹرز سے بات کرتے ہوئے طالبان سے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ 'جہاں تک میرا تعلق ہے وہ مردہ ہوگئے ہیں '۔افغانستان سے امریکا کے 14 ہزار فوجیوں کی واپسی کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ 'ہم وہاں سے باہر آئیں گے لیکن ہم صحیح وقت پر باہر آئیں گے'۔

(جاری ہے)

واضح رہے کہ ٹرمپ نے دو روز قبل افغان صدر اشرف غنی اور طالبان سے کیمپ ڈیوڈ میں طے شدہ خفیہ ملاقات کو منسوخ کرتے ہوئے طالبان سے مذاکرات ملتوی کرنے کا اعلان کیا تھا۔

طالبان نے اپنے ردعمل میں کہا تھا کہ مذاکرات کی منسوخی سے امریکا کو پہلے سے زیادہ نقصان پہنچے گا۔بعد ازاں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مائیکل پومپیو نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ امید ہے کہ طالبان اپنے رویے کو تبدیل کریں گے اور مذاکرات جہاں تک پہنچے تھے وہیں سے شروع کریں گے اور اپنے وعدوں کی پاسداری کریں گے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے رپورٹرز سے گفتگو میں کہا کہ 'وہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے لوگوں کو اس لیے مارا تاکہ مذاکرات میں اپنی پوزیشن بہتر بنا لیں جو ایک بڑی غلطی ہے'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ہماری ملاقات طے تھی جو میرا آئیڈیا تھا اور منسوخ کرنا بھی میرا آئیڈیا تھا، میں نے اس حوالے سے کسی سے بات نہیں کی تھی'۔ ان کا کہنا تھا کہ 'میں نے کیمپ ڈیوڈ ملاقات کو اس بنیاد پر منسوخ کیا کہ انہوں نے وہ کچھ کیا تھا جو انہیں نہیں کرنا چاہیے تھا'۔ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ 'وہ آج امریکا آرہے تھے، بدقستمی سے جھوٹے مفاد کے لیے انہوں نے کابل میں حملے کی ذمہ داری قبول کی جس میں ہمارے ایک عظیم سپاہی سمیت 11 افراد ہلاک ہوئے'۔