نیب میگا کرپشن کے وائٹ کالر کرائمز کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹاتا ہے، جسٹس جاوید اقبال کا جائزہ اجلاس سے خطاب

بدھ ستمبر 16:41

نیب میگا کرپشن کے وائٹ کالر کرائمز کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹاتا ہے، ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 11 ستمبر2019ء) قومی احتساب بیور نیب کے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال نے کہا ہے کہ نیب بڑے پیمانے پر عوام سے لوٹ مار،اختیارات کے ناجائز استعمال، منی لانڈرنگ ، سرکاری فنڈز میں خوردبرد،ہائوسنگ سوسائیٹیز/کوآپریٹو سوسائٹیزمیں میگا کرپشن کے وائٹ کالر کرائمز کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹاتاہے۔یہ بات انہوں نے نیب ہیڈکوارٹرز میں نیب کی مجموعی کارکردگی سے متعلق جائزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے کہا کہ نیب کی موجودہ انتظامیہ نے تفصیلی غوروخوض کے بعدمقدمات کو تیزی سے نمٹانے کیلئے موثر آپریشنل ٹیکنالوجی وضع کی ہے جو کہ شکایت کی جانچ پڑتال انکوائری انویسٹیگیشن اور متعلقہ احتساب عدالتوں میں مقدمات دائر کرنے پر مشتمل ہے جس کیلئے دس ماہ کا عرصہ مقرر کیا ہے انہوں نے کہا کہ نیب نے سینئر سپروائزری افسران کی اجتماعی دانش سے فائدہ اٹھانے کیلئے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کا نظام وضع کیا ہے جو کہ ڈائریکٹر ایڈیشنل ڈائریکٹر انویسٹیگیشن افسرز اور سیئنر لیگل قونصل پر مشتمل ہوتی ہے جس سے نہ صرف نیب کی کارکردگی میں بہتری آئی ہے بلکہ کوئی بھی فرد نیب کی تحقیقات پر اثر انداز نہیں ہوسکتا ۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ نیب نے نیب راولپنڈی میں جدید فرانزک لیبارٹری قائم کی ہے جس میں ڈیجٹیل فرانزک سوالیہ دستاویزات اور فنگرپرنٹس کے تجزیہ کی سہولت موجود ہے جس سے نیب کی انکوائریوں اور انویسٹیگیشن کو نمٹانے کی کارکردگی میں مزید بہتری آئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ نیب نے انسداد بدعنوانی کے شعبہ میںچین کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کئے ہیں جس سے پاکستان میں سی پیک کے تحت شروع کئے گئے منصوبوں کے حوالے سے اعتماد سازی میں مدد ملے گی۔

انہوں نے کہاکہ معاشی ترقی، سرمایہ کاری اور سماجی اقدار کے تحفظ کیلئے احتساب کا فعال نظام ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب کوگزشتہ سال کے اس عرصے کے مقابلے میں دوگنا شکایات موصول ہوئی ہیں جس سے نیب کی شاندار کارکردگی ظاہر ہوتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ گیلانی اینڈ گیلپ سروے کے مطابق59 فیصد لوگوں نے اس پالیسی کو کامیاب قرار دیا ہے انہوں نے کہا کہ نیب نے گزشتہ 22ماہ کے دوران متعلقہ احتساب عدالتوں میں بدعنوانی کے 600 مقدمات دائر کئے ہیں جو کہ گزشتہ 5سال کے مقابلہ میں شاندار کارکردگی ہے۔

نیب کی موجودہ انتظامیہ کے دور میں براہ راست 71ارب روپے بدعنوان عناصر سے وصول کرکے قومی خزانے میں جمع کرائے گئے جو کہ ریکارڈ کارکردگی ہے۔انہوں نے کہاکہ نیب نے سینکڑوں متاثرین اور سرکاری اداروں کو لوٹی گئی رقوم برآمد کر کے تقسیم کی ہیںتاہم نیب افسران نے ان میں سے ایک پائی بھی وصول نہیں کی کیوںکہ نیب افسران بدعنوانی کے خاتمہ کو اپنا قومی فرض سمجھ کر ادا کر رہے ہیں۔نیب کے تمام شعبوں کی اعلی کارکردگی کے باعث معاشرے کے تمام طبقات بدعنوانی سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کیلئے موجودہ انتظامیہ کے اقدامات کو سراہتے ہیں۔