طالبان سے نمٹنے کے لیے کیا ٹرمپ ایٹم بم سے حملہ کر دے گا؟

اب دشمن کے ساتھ وہ ہوگا جو کبھی نہیں ہوا، امریکی صدر ٹرمپ

Sajjad Qadir سجاد قادر جمعرات ستمبر 06:11

طالبان سے نمٹنے کے لیے کیا ٹرمپ ایٹم بم سے حملہ کر دے گا؟
لاہور ۔ ( اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 12ستمبر 2019ء)   دوسری جنگ عظیم میں امریکہ نے ہیروشیمااور ناگا ساکی پر ایٹم بم حملہ کر کے یہ ثابت کر دیا تھاکہ امریکہ اپنا مقصد پانے اور دشمن کو زیر کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔ تاہم گزشتہ دنوں عراق میں بھی داعش کے ٹھکانوں کو تباہ کرنے کے لیے40ٹن وزنی بم گرائے گئے ہیں۔ٹرمپ کا بس نہیں چلتاکہ وہ ہر اس جگہ پر بم گرا دے جہاں اس کا زور نہیں چلتا۔

ٹرمپ کی خواہش کو دیکھا جائے تو وہ مریخ پر بھی ایٹم بم حملے کا مشورہ دیتا نظر آٹا ہے۔ٹرمپ کے بیانات اور باڈی لینگوایج کو مدنظر رکھتے ہوئے بندہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ عالمی طاقت کی مسند پر کس مسخرے کو بٹھا دیا گیا ہے۔ٹرمپ کی شدیدخواہش تھی کہ وہ افغانستان سے نکلنے کے لیے طالبان سے مذاکرات کرے جنہوں نے امریکہ کی کمر توڑ دی ہوئی ہے۔

(جاری ہے)

ان مذاکرات کے لیے چین اور پاکستان نے کلیدی کردار اد اکیا۔مگر جب معاہدہ ہو گیاتو آخری وقت میں ٹرمپ نے مذاکرات منسوخ کر دیے۔اب بظاہر یہی لگتا ہے کہ ٹرمپ کوئی سنجیدہ ایکشن لینے کے لیے تیار ہو چکا ہے جبکہ مذاکرات کینسل ہونے کے بعد طالبان نے بھی اپنی کارروائیوں میں اضافہ کر دیا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ہم نائن الیون کے زخموں کو نہیں بھولے، دشمن نے اب اگر ہمارے ملک کا رخ کیا تو ہم ہرجگہ اس کے پیچھے جائیں گے اور اب دشمن کے خلاف ایسی طاقت استعمال کریں گے جو پہلے کبھی نہیں کی گئی۔

پینٹاگون میں نائن الیون کی یادگاری تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ کچھ دنوں پہلے ہمارے طے شدہ امن مذاکرات ہونے تھے لیکن امریکی اہلکار اور گیارہ معصوم لوگوں کی ہلاکت کی خبر سنتے ہی میں نے وہ مذاکرات منسوخ کر دیے۔ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے سمجھا تھا کہ اس حملے سے وہ اپنی طاقت ظاہر کریں گے لیکن انہوں نے تو اپنی کمزوری ظاہر کر دی، پچھلے چاردنوں میں پہلے سے زیادہ بھرپور طاقت سے دشمن کو نشانہ بنایا ہے اور یہ عمل جاری رہے گا۔امریکی صدر نے وضاحت کی کہ 'میں جوہری ہتھیاروں کیاستعمال کی بات نہیں کر رہا لیکن اب دشمن کے ساتھ وہ ہوگا جو کبھی نہیں ہوا'۔