منظر عام پر آنے والے کاغذات کے مطابق سی آئی اے نے سرد جنگ میں فوٹوگرافر جاسوس کبوتر استعمال کیے

Ameen Akbar امین اکبر منگل ستمبر 23:50

منظر عام پر آنے والے کاغذات کے مطابق  سی آئی اے نے سرد جنگ میں  فوٹوگرافر ..
سی آئی اے کی حساس دستاویز منظر عام پر آنے کے بعد پتا چلا ہے کہ سی آئی اے نے سرد جنگ میں  جاسوس کبوتروں سے فوٹوگرافی کا کام لیا تھا۔
1960 اور 1970 کی دہائی کی فائلوں سے پتا   چلا ہے کہ سی آئی اے کبوتروں کو سوویت یونین میں حساس مقامات کی فوٹوگرافی کے لیے تربیت دیتی تھی۔
دستاویز سے پتا چلا ہے کہ کبوتروں کو  کھڑکیوں سے جاسوسی آلات پھینکنے اور ڈولفنز کو بھی زیر آب مقاصد کے لیے تربیت  دی گئی تھی۔


سی آئی اے کو یقین تھا کہ وہ  اپنی خفیہ کاروائیوں کے لیے  جانوروں سے مدد لے سکتے ہیں۔ ایجنسی نے آہنی پردے کے پیچھے سوویت یونین میں اس طریقے سے اپنے مقاصد حاصل بھی کیے۔
یہ خفیہ فائلیں سی آئی اے کے ہیڈ کوارٹر ، لینگلے کے ایک میوزیم میں محفوظ ہیں، جو عوام کے لیے کھلا نہیں ہے۔

(جاری ہے)

حال ہی  میں جاری کی گئی فائلوں سے پتا چلا ہے  کہ  1970 کی دہائی میں ایک آپریشن، جس کا کوڈ نام Tacana تھا، شروع کیا گیا تھا۔

اس آپریشن میں کبوتروں کے جسم پر چھوٹے کیمرے باندھے جاتے تھے۔ یہ کیمرے خودکار طور پر تصاویر لیتے تھے۔اس آپریشن میں کبوتروں کو اس وجہ سے استعمال کیا گیا کہ یہ سینکڑوں میل کافاصلہ طے کر کے  واپس  اپنے اصل مقام پر پہنچ سکتے تھے۔
پیغام رسانی کے لیے کبوتروں کا استعمال ہزاروں سال سے ہو رہا ہے۔پہلی جنگ عظیم میں بھی  اسے جاسوسی کے لیے استعمال کیا گیا۔

دوسری جنگ عظیم میں برطانوی انٹیلی جنس MI14(d) میں سیکرٹ پیجن سروس کا شعبہ بھی تھا، جس نے یورپ کے مقبوضہ علاقوں می پیراشوٹ کی مدد سے پرندوں کے کنٹینر گرائے تھے۔ اس کبوتروں کے ساتھ ایک سوالنامہ بھی منسلک تھا۔ ان میں سے 1 ہزار کبوتر واپس آئے، جن کے ساتھ پیغام میں وی ون راکٹ لانچنگ سائٹس اور جرمن ریڈار سٹیشنز کی تفصیلات تھیں۔ ان کبوتروں کے ذریعے ایک باغی گروپ نے جو پیغام بھیجا اس سے 12 صفحات کی انٹیلیجنس رپورٹ بنا کر چرچل کو پیش کی گئی تھی۔

جنگ کے بعد بھی برطانوی اداروں نے سرد جنگ میں کبوتروں کے استعمال کا سوچا لیکن اس پر زیادہ زور نہیں دیا۔ تاہم سی آئی اے نے کبوتروں کا استعمال جاری رکھا۔ سی آئی اے کبوتروں کو واپس بلانے کے لیے خصوصی سرخ فلیشنگ لائٹ بیم استعمال کرتی۔
سی آئی اے نے ایک آپریشن Acoustic Kitty کے ذریعے بلیوں میں آڈیو سننے والی ڈیوائسز نصب کی تھیں۔
1960 کی دہائی میں سی آئی اے نے ڈولفنز کو بھی استعمال کرنے کا پروگرام بنایا جو زیادہ کامیاب نہیں ہوا۔
1967 تک سی آئی اے تین خفیہ ترین پروگراموں پر 6 لاکھ ڈالر خرچ کر چکی تھی۔ اس میں سے Oxygas ڈولفنزکے لیے، Axiolite پرندوں کے لیے اور Kechel کتے اور بلیوں کی مدد سے جاسوسی کے لیے شروع کیا گیا تھا۔

متعلقہ عنوان :