چاہتے ہیں کہ صوبوں سے اختیارات ضلع کونسل تک دیئے جائیں تاکہ عوام کے بنیادی مسائل حل کئے جاسکیں، انیس قائم خانی

پورا سندھ تباہ وبرباد ہے یہاں لائٹ نہیں ہے، بلدیاتی نظام تباہ ہے، میئر کے لوٹ کے قصے عام ہیں،صدر پی ایس پی کی میڈیا سے گفتگو

جمعرات ستمبر 23:42

حیدرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 19 ستمبر2019ء) پاک سرزمین پارٹی کے صدر انیس قائم خانی نے کہا ہے کہ پورا سندھ تباہ وبرباد ہے ، یہاں لائٹ نہیں ہے ، پکاقلعہ میں کئی کئی دنوں سے لائٹ نہیں ہے، واپڈا کی طرف سے طویل دورانیہ کی نام نہاد لوڈشیڈنگ ہے، بلدیاتی نظام تباہ ہے، میئر کے لوٹ کے قصے عام ہیں، وہ پکاقلعہ گراؤنڈ میں میڈیا سے بات چیت کررہے تھے۔

اس موقع پرندیم قاضی، شعیب جعفری اور دیگر بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہاکہ 18ویں ترمیم میں بھی ترمیم کی جائے ، ہم چاہتے ہیں کہ صوبوں سے اختیارات ضلع کونسل تک دیئے جائیں تاکہ عوام کے بنیادی مسائل حل کئے جاسکیں۔ انیس قائم خانی نے اعلان کیا کہ جمعہ کو پکاقلعہ گراؤنڈ میں پاک سرزمین پارٹی ورکر ز اجلاس کریگی جس میں حیدرآباد سمیت دیگر شہروں سے بھی بڑی تعداد میں کارکنان شرکت کریں گے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ آنے والے بلدیاتی الیکشن میں اُن کی پارٹی کلین سوئپ کریگی اور وہ الیکشن پی ایس پی کا الیکشن ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ شہری علاقوں کی صورتحال بہت خراب ہے ، کچرا اٹھانے کے حوالے سے پچھلے کئی ماہ سے کبھی صوبائی اور کبھی وفاقی حکومت جس طرح مہم چلارہی ہے اور اس میں انہیں ناکامی ہورہی ہے اور پھر وہی مہم چلارہے ہیں اور پھر ناکامی ہورہی ہے۔

کچرا روزمرہ کا مسئلہ ہے وہ کسی مہم کی بنیاد پر حل نہیں ہوتا ، انہوں نے کہاکہ کراچی والے نہ کسی ہسپتال اور نہ کسی فلائی اوور کا مطالبہ کررہے ہیں بلکہ کراچی کی انتظامیہ سے کہہ رہے ہیں کہ کچرا کیوں نہیں اٹھ رہا ہے۔ کراچی تو تباہ ہورہاہے لیکن سندھ کا دوسرا بڑا شہر حیدرآباد کراچی سے زیادہ تباہ حال ہے۔ حیدرآباد کی سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے، گٹر ابل رہے ہیں، کچرا اٹھتا نہیں ہے کوئی بڑی سہولت نہیں ہے۔

انہوں نے کہاکہ پورا سندھ تباہ وبرباد ہے ، یہاں لائٹ نہیں ہے ، پکاقلعہ میں کئی کئی دنوں سے لائٹ نہیں ہے، واپڈا کی طرف سے طویل دورانیہ کی نام نہاد لوڈشیڈنگ ہے، بلدیاتی نظام تباہ ہے، میئر کے لوٹ کے قصے عام ہے، انہوں نے کہاکہ سندھ حکومت حیدرآباد کو نظرانداز کررہی ہے، انہوں نے کہاکہ اس مسئلے کا حل یہ نہیں ہے کہ ہم اس پر خاموش بیٹھ جائیں ، ہم بلدیہ انتظامیہ کیخلاف تحریک کا اعلان کرتے ہیں، جگہ جگہ مظاہرے ہوں گے ۔