جنگ کے خطرات منڈلانے پر سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے جنوبی کوریا سے مدد مانگ لی

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے دفاعی سسٹم کو مضبوط کرنے کے لیے جنوبی کوریا سے مدد طلب کی

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین جمعہ ستمبر 12:19

جنگ کے خطرات منڈلانے پر سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے جنوبی کوریا سے ..
جدہ (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 20 ستمبر 2019ء) : سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے جنگ کے خطرات منڈلانے پر جنوبی کوریا سے مدد مانگ لی ہے۔ تفصیلات کے مطابق غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ سعودی عرب اور جنوبی کوریا ، دونوں ممالک نے اس معاملے پر مشاورت جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ۔ سعودی ولی عہد نے ڈیفنس سسٹم کو مضبوط کرنے کے لیے ہی جنوبی کوریا سے مدد طلب کی۔

دوسری جانب سعودی عرب اور جنوبی کوریا کے مابین مشترکہ ایٹمی ریسرچ پروگرام چلانے کا معاہدہ بھی طے پا گیا۔ اس حوالے سے بتایا گیا کہ معاہدے کا مقصد ایٹمی توانائی کے پُر امن استعمال کے لیے سعودی عملہ تیار کرنا ہے۔ سعودی عرب اور جنوبی کوریا کے مابین مشترکہ ایٹمی ریسرچ پروگرام میں تعاون پر اتفاق اور معاہدہ طے پا گیا ۔

(جاری ہے)

سعودی عرب اور جنوبی کوریا نے آسٹریا کے دار الحکومت ویانا میں ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کی جنرل کانفرنس میں شرکت کے موقع پر مشترکہ ریسرچ پروگرام تیار کیا ۔

قبل ازیں جون میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے جنوبی کوریا کا دورہ کیا تھا ۔ اس موقع پر دونوں ملکوں نے 8.3 ارب ڈالر مالیت کے 15 معاہدے کیے تھے اور تیل کے شعبے میں وسیع تر تعاون کا بھی فیصلہ کیا تھا۔ سعودی عرب اور جنوبی کوریا کے تعلقات کی تاریخ 54 برس پرانی ہے۔ اسٹریٹجک شراکت کا فیصلہ چین میں 2016ء کے دوران منعقدہ جی 20 کے موقع پر کیا گیا تھا۔

دونوں ممالک نے سعودی کورین وژن 2030ء تشکیل دے کر باہمی تعلقات کو عروج تک لیجانے کا عزم کیا تھا۔ جنوبی کوریا میں سعودی ولی عہد کے تاریخی استقبال نے تجزیہ نگاروں ، سیاستدانوں اور ماہرین اقتصادیات کو چونکا دیا تھا۔ جنوبی کوریا کے وزیراعظم نے پروٹوکول توڑ کر ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا استقبال بھی کیا او ران سے تاریخی مذاکرات کیے تھے۔