صوابی ،نامعلوم ڈاکوئوں نے ستر سالہ ضعیف العمر بوڑھے پر فائرنگ کر کے قتل کر دیا،مزاحمت پر مقتول کی بھابھی زخمی

جمعہ ستمبر 18:27

صوابی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 20 ستمبر2019ء) صوابی کی یونین کونسل سلیم خان کے میجر بانڈہ میں جمعہ کی علی الصبح نامعلوم ڈاکوئوں نے ستر سالہ ضعیف العمر بوڑھے پر فائرنگ کر کے قتل کر دیا جب کہ ڈاکووں نے مقتول کی بوڑھی بھابھی کو شور مچانے پر پستول سے بٹ مار کر زخمی کر دیا۔ مقتول کے لواحقین اور علاقے کے عوام نے لاش کے ساتھ صوابی کے کرنل شیر چوک میں احتجاجی مظاہرہ کر کے جہانگیرہ ٹوپی اور مردان روڈ کو بند کر دیا تاہم پولیس اور انتظامیہ کی تین یوم کے اندر اندر ملزمان کا سراغ لگا کر گرفتار کرنے کی یقین دہانی پر مظاہرین نے احتجاج ختم کر کے پُر امن طور پر منتشر ہو گئے ۔

(جاری ہے)

حبیب الرحمن سکنہ سلیم خان میجر بانڈہ نے تھانہ صوابی میں ایف آئی آر درج کراتے ہوئے بتایا کہ جمعہ کی علی الصبح وہ اپنے اہل خانہ کے ہمراہ گھر میں موجود تھے کہ اس دوران دو نامعلوم نقاب پوش مسلح افراد ہمارے گھر میں داخل ہو ئے جس کو دیکھتے ہی میری بیوی نے شور مچایا جس کا ملزمان نے اسے اسلحہ آتشین کے بٹ سے سر پر وار کر کے زخمی کر دیا جب ملزمان ہمارے شور کی وجہ سے گھر سے باہر نکل کر جارہے تھے تو اس دوران اپنے گھرسے آتے ہوئے میرا ستر سالہ بھائی مقرب خان اور ان کے نواسے آصف خان جو ہمارے گھر کی طرف آرہے تھے پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں میرا ستر سالہ بھائی مقرب خان گولی لگنے سے جاں بحق جب کہ نواسا آصف خان معجزانہ طور پر بال بال بچ گیا وجہ عناد اور ملزمان معلوم نہیں اس واقعہ کے خلاف جمعہ کی صبح مقتول کے لواحقین اور علاقے کے عوام نے لاش کے ساتھ کرنل شیر خان چوک صوابی میں احتجاجی مظاہرہ کیا اور اس واقعہ کی شدید مذمت کر تے ہوئے کہا کہ ظالم ڈاکوئوں نے بے گناہ بوڑھے پر فائرنگ کر کے قتل کر دیا جو کہ انتہائی ظلم اور زیادتی ہے انتظامیہ فوری طور پر ملزمان کا سراغ لگا کر گرفتار کیا جائے اس موقع پر انہوں نے کہا کہ اس قسم کے واقعات پولیس کے لئے لمحہ فکریہ ہے حکام عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنائے اس موقع پر ایس ایچ او انسپکٹر نور الا مین خان بمعہ پولیس نفری موقع پر پہنچے اور مظاہرین کے ساتھ مذاکرات کے دوران یقین دلایا کہ تین دن کے اندر اندر ملزمان کو ٹریس کر کے گرفتار کیا جائیگا جس پر مظاہرین نے روڈ کو ٹریفک کے لئے کھول دیا ۔