مودی سرکار کیخلاف باقاعدہ بغاوت؟ بھارتی پنجاب کے وزیراعلی نے نوجوت سنگھ سدھو کے ہمراہ دورہ پاکستان کا اعلان کردیا

امریندر سنگھ اپنے 12 وزراء اور 117 اراکین اسمبلی کے ہمراہ کرتار پور راہداری منصوبے کی افتتاحی تقریب میں شرکت کیلئے نومبر کے ماہ میں بذریعہ زمینی راستے ناروال آئیں گے

muhammad ali محمد علی ہفتہ ستمبر 22:59

مودی سرکار کیخلاف باقاعدہ بغاوت؟ بھارتی پنجاب کے وزیراعلی نے نوجوت ..
نارووال (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 ستمبر2019ء) مودی سرکار کیخلاف باقاعدہ بغاوت؟ بھارتی پنجاب کے وزیراعلی نے نوجوت سنگھ سدھو کے ہمراہ دورہ پاکستان کا اعلان کردیا، امریندر سنگھ اپنے 12 وزراء اور 117 اراکین اسمبلی کے ہمراہ کرتار پور راہداری منصوبے کی افتتاحی تقریب میں شرکت کیلئے نومبر کے ماہ میں بذریعہ زمینی راستے ناروال آئیں گے۔ تفصیلات کے مطابق بھارت کے خبر رساں اداروں کی جانب سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ بھارتی پنجاب کے وزیراعلی امریندر سنگھ نے پاکستان کا دورہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

بتایا جا رہا ہے کہ بھارتی پنجاب کے وزیراعلی اپوزیشن رہنما نوجت سنگھ سدھو کو اپنے ہمراہ لے کر پاکستان کا دورہ کریں گے۔ امریندر سنگھ کرتارپور راہداری کے افتتاح کے سلسلے میں نومبر کے ماہ میں پاکستان آئیں گے۔

(جاری ہے)

بھارتی پنجاب کے وزیراعلی اپنے 12 وزراء اور 117 اراکین اسمبلی کے ہمراہ بذریعہ زمینی راستے ناروال پہنچیں گے۔ دوسری جانب بتایا گیا ہے کہ ضلع نارووال میں پاک بھارت سرحد پر تعمیر کرتار پور صاحب راہداری (کے ایس سی) کا پہلا مرحلہ نومبر کے دوسرے ہفتے میں کھول دیا جائے گا، جس کے تحت دنیا بھر سے سکھ برادری کو ننکانہ صاحب میں مذہبی رسومات کی پیش کش کی سہولت فراہم ہوگی۔

بتایا گیا ہے کہ 800 ایکڑ اراضی پر پھیلے منصوبے کے پہلے مرحلے کا تقریبا 90 فیصد تعمیراتی کام مکمل کرلیا گیا ہے۔ تعمیراتی کام کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے ، جس میں پاک بھارت بارڈر میں داخلی نقطہ، بارڈر ٹرمینل بلڈنگ (امیگریشن کنٹرول) اور گوردوارہ کمپلیکس ایک وقت میں 10 ہزار زائرین کے رہنے کی گنجائش ہے۔ گوردوارہ صاحب سکھوں کے لئے مقدس ترین مقام سمجھا جاتا ہے ، جو بابا گرو نانک دیو جی کی آخری آرام گاہ ہے ، جہاں اپنی زندگی کے آخری 18 سال تبلیغ میں گزارے تھے۔

وزیر اعظم عمران خان نے نومبر 2018 میں اس منصوبے کا اعلان کیا جس پر فوری تعمیراتی کام کا آغاز کر دیا گیا تھا۔ منصوبے کے تحت بھارتی اور پاکستان کے پنجاب کے صوبوں کو ایک پل کے ذریعے جوڑا جائے گا، جس کی مدد سے بھارتی پنجاب سے سکھ زائرین باآسانی پاکستان میں داخل ہو سکیں گے۔