اہم اداروں نے آزادی مارچ کی آڑ میں دہشتگردی کے خدشے سے خبردار کر دیا

دہشتگردی کا خدشہ سامنے آنے پر حکومت کی جانب سے آزادی مارچ کی کسی صورت اجازت نہ دینے پر غور شروع

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین بدھ اکتوبر 11:28

اہم اداروں نے آزادی مارچ کی آڑ میں دہشتگردی کے خدشے سے خبردار کر دیا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 09 اکتوبر 2019ء) : جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے 27 اکتوبر کو آزادی مارچ اور دھرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ مولانا فضل الرحمان کی جانب سے دھرنے کے اعلان کے بعد سے ہی اہم اداروں نے آزادی مارچ اور دھرنے میں دہشتگردی کے خدشے کا اظہار کر دیا ہے۔ مولانا فضل الرحمان کی جانب سے حکومت مخالف آزادی مارچ کی تاریخ کے اعلان کے بعد حکومت اور اہم ادارے متحرک ہو گئے ہیں۔

دہشتگردی کا خدشہ سامنے آنے پر امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ حکومت مولانا فضل الرحمان کو آزادی مارچ کی کسی صورت اجازت نہ دینے پر غور کر رہی ہے۔ تاہم موجودہ صورتحال کے تناظر میں آزادی مارچ کی اجازت دینے یا نہ دینے کے بارے میں وزیراعظم عمران خان نے اہم اداروں سے مشاورت کے لیے اجلاس طلب کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔

(جاری ہے)

اس کے علاوہ وفاقی وزارت داخلہ نے صوبوں سے مولانا فضل الرحمان کے حمایتی مدارس،ان کے اساتذہ اور طلبا کی تفصیلات بھی طلب کر لی ہیں۔

مولانا فضل الرحمان کا ساتھ دینے والی مذہبی و سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں اور کارکنوں کی لسٹیں بھی طلب کر لی گئی ہیں۔ لیکن مولانا فضل الرحمان کی جانب سے ''میں نہ مانوں'' کی ضد اور 27 اکتوبر کے دن کا انتخاب کرنے کے بعد وزیر اعظم عمران خان بھی اب ان کو رعایت دینے کے موڈ میں نہیں ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ بعض اہم اداروں نے حکومت کو آزادی مارچ سے متعلق آگاہ کیا اور بتایا کہ اس میں مخصوص مکاتب فکر کے افراد شامل ہوں گے،اگر دہشتگردی کی کارروائی ہوئی تو مسلکی تصادم کا بھی خدشہ ہے جس کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

یہی وجہ ہے کہ اب حکومت نے مولانا فضل الرحمان کو آزادی مارچ اور دھرنے کی اجازت نہ دینے پر غور شروع کر دیا ہے جبکہ اس حوالے سے قانونی اور آئینی پہلوؤں پر بھی مشاورت کی جا رہی ہے تاکہ قانونی طریقے سے آزادی مارچ اور دھرنے کو روکا جا سکے اور ممکنہ دہشتگردی کے خدشے کو ٹالا جا سکے۔