دھرنے اور احتجاج ہمیشہ سرپرائز کے ساتھ ختم ہوتے ہیں: سینیٹررحمان ملک

مولانا فضل الرحمان دھرنا مذہبی کارڈ پر شروع ہوا لیکن اب دیکھنا یہ ہے کہ اس کا اختتام مذہبی کارڈ پر ہوتا ہے یا سیاسی کارڈ پر؟ رہنما پیپلز پارٹی

Usman Khadim Kamboh عثمان خادم کمبوہ بدھ نومبر 00:08

دھرنے اور احتجاج ہمیشہ سرپرائز کے ساتھ ختم ہوتے ہیں: سینیٹررحمان ملک
اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔05 نومبر2019ء) رہنما پاکستان پیپلز پارٹی سینیٹر رحمان ملک نے کہا ہے کہ دھرنے اور احتجاج ہمیشہ سرپرائز کے ساتھ ختم ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان دھرنا مذہبی کارڈ پر شروع ہوا لیکن اب دیکھنا یہ ہے کہ اس کا اختتام مذہبی کارڈ پر ہوتا ہے یا سیاسی کارڈ پر؟ انہوں نے مزید کہا کہ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ حکومت دھرنا مذہبی کارڈ پہ ختم کراتی ہے یا سیاسی کارڈ پر؟۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ مذہبی کارڈ کا استعمال نہ کیا جائے،پیپلز پارٹی بحیثیت سیاسی جماعت ہم آزادی مارچ کے ساتھ ابتدا سے ہیں لیکن پارٹی نے ابتدا ہی میں یہ مقف اختیار کیا تھا کہ وہ کسی بھی دھرنے میں ساتھ نہیں دے گی۔

(جاری ہے)

رحمان ملک نے کہا کہ مجھے تو آزادی مارچ پارلیمنٹ ہاؤس سے نظر نہیں آرہا جبکہ ہو سکتا ہے کہ آئندہ دو دنوں میں شاید بالکل بھی نظر نہ آئے،دھرنے اور احتجاج ہمیشہ سرپرائز کے ساتھ ختم ہوتے ہیں۔

دوسری جانب رہنما جمیعتِ علماء اسلام ف مولانا فضل الرحمان نے کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ احتساب کے نام پر انتقام کا ڈرامہ اب مزید نہیں چلے گا، جب تک کشمیر کمیٹی میرے ہاتھ میں تھی کوئی مائی کا لعل کچھ نہیں بگاڑ سکا، آج پاکستان میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کی باتیں ہورہی ہیں کب تک حقائق چھپاؤ گے؟ مولانا فضل الرحمان نے ھکومت کا چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اشتعال نہ دلایا جائے ورنہ 24 گھنٹے میں شکست دے دیں گے۔

انہوں نے آزادی مارچ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہماری بطور جماعت اور اپوزیشن کی پالیسی نہیں بنتی تو ڈی چوک جانے والی باتیں ترک ہونی چاہیے۔ ایسا بندہ جو ہمارے ساتھیوں کو اشتعال دلاتا ہے اور پھر جذبات میں ہمارے ساتھی بھی وہاں جانے کاکہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کئی روز سے آزادی مارچ اسلام آباد کی سرزمین پر براجماں ہے، اپنے مطالبے کے تسلسل کو برقرار رکھے ہوئے ہے، ہمیں کہا جاتا ہے کہ یہ تو ہمیشہ لوگ اسلام آباد آئیں گے اورکہیں گے حکومت چلی جائے، روائت بن جائے گی،میں پوچھنا چاہتاہوں 2014ء میں ڈی چوک پر 126روز کے دھرنے پر اعتراض کیوں نہیں تھا؟ لیکن اب آزادی مارچ پر کیوں اعتراض کیا جارہا ہے؟ یہ اپوزیشن میں تھا تو تمام جماعتیں ایک طرف تھیں، اب حکومت میں ہے تو پھی حزب اختلاف ایک طرف ہے۔