شہر میں آگ بجھانے کے حفاظتی اقدامات بہتر بنائیں گے، صنعتی و تجارتی ادارے اپنا فائر سسٹم بنائیں

صوبائی وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ کا فائر سیفٹی اینڈ سیکورٹی کانفرنس و ایوارڈ کی تقریب سے خطاب

جمعہ نومبر 23:39

کراچی۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 08 نومبر2019ء) حکومت سندھ کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کے فائر فائٹنگ سسٹم کو بہتر کرنے کیساتھ ساتھ صنعتی اداروں اور کمرشل اداروں کے ساتھ مل کر ان کا اپنا فائر سسٹم بنانے کیلئے بھی تیار ہے تاکہ کسی بھی حادثے کی صورت میں صنعتیں خود اپنا تحفظ یقینی بنا سکیں۔ ان خیالات کا اظہار صوبائی وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ نے جمعہ کو نیشنل فورم فار انوائرنمنٹ اینڈ ہیلتھ اور فائر پروٹیکشن ایسوسی ایشن کے تحت منعقد نویں فائر سیفٹی اینڈ سیکورٹی کنوینشن اور ایوارڈ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

اس موقع پر سابق ایڈمنسٹرر کراچی فہیم الزماں خان، سابق ڈپٹی فائر افسر کے ایم سی نعیم یوسف، ممبر سندھ اسمبلی پی ٹی آئی ڈاکڑ عمران علی شاہ، صدر ایف پی اے پی عمران تاج، صدر این ایف ای ایچ محمد نعیم قریشی، نائب صدر این ایف ای ایچ انجینئر ندیم اشرف، ڈپٹی سیکریڑی ایف پی اے پی وجاحت، چیئرمین آباد محسن شیخانی، فائر چیف این آرایل شاہد رشید، کنڑی ہیڈ فائر اینڈ سیکورٹی اورینٹ انرجی واصف لعیق، سی ایچ ایس کے انیس عالم، سی ایس آر کلب پاکستان کے صدر انیس یونس، فائر ایکسپرٹ خالد ندیم، سیکورٹی ماہر کرنل (ر) رضوان احمد، سنیئر مینجر ایڈمن امن فائونڈیشن صباحت علی خان، سنیئر انکرپرسن مسعود رضا، سابق چیئرمین پی پی ایم اے ڈاکڑ قیصر وحید و دیگر نے بھی خطاب کیا۔

(جاری ہے)

صوبائی وزیر نے کہا کہ صنعتوں، کمرشل اداروں اور بلند عمارتوں میں آگ سے بچائو کے بہترین اقدامات کئے جانے چاہئیں کیونکہ حادثے کی صورت میں ان جگہوں پر بہت جانی و مالی نقصان ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہر میں بلند عمارتوں کے اضافے کے بعد حکومت نے کے ایم سی کیلئے جدید اسنارکل خرید لی ہے اور جلد ہی مذید اسنارکل اور دیگر آلات بھی خریدے جائیں گے تاکہ کے ایم سی کے فائر ڈیپارٹمنٹ کو عالمی معیار کے مطابق بنایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت شہر کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر کرنے کیلئے اقدامات کر رہی ہے اور شہر میں پانی، سڑکوں کی مرمت اور دیگر منصوبوں پر کام تیزی سے ہو رہا ہے۔ سابق ایڈمنسٹرر کراچی فہیم الزماں خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان بنے کے بعد سے اب تک شہر کی آبادی میں 60فیصد اضافہ ہو چکا ہے مگر آبادی کے لحاظ شہر میں کوئی کام نہیں کیا گیا اور نہ ہی شہر میں آگ پر قابو پانے کیلئے کے ایم سی کو جدید تقاضوں پر بنایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ شہر میں اداروں نے بلدیہ فیکڑی کی آگ سے کچھ سبق حاصل نہیں کیا، اسی لئے آج تک صنعتوں میں آگ پر قابو پانے کیلئے کو ئی اقدامات نہیں کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ صنعتوں کا آگ کے حوالے سے اقدامات نہ کرنا حکومت کی نا کامی ہے۔ سابق فائر چیف کے ایم سی نعیم یوسف نے کہا کہ ملک میں گذشتہ دنوں ٹرین میں آگ لگنے کا واقعہ پیش آیا جس میں کئی قیمتی جانوں کا نقصان ہو ا، ٹرینوں میں فائر کے جدید آلات موجود ہونے چاہئیں اور ریلوے اسٹاف کو بھی ہنگامی حالات میں اسے استعمال کرنے کی تربیت دینے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں بڑے ریلوے اسٹیشنوں پر اپنا فائر اسٹیشن ہونا چائیے تاکہ ہنگامی حالات میں اس کی مدد سے قابو پایا جا سکے۔ ممبر سندھ اسمبلی پی ٹی آئی ڈاکڑ عمران علی شاہ نے کہا کہ ہسپتالوں میں مریضوں کیلئے ہنگامی صورتحال کے دوران سہولتوں کا فقدان ہوتا ہے۔ ایف پی اے پی کے صدر عمران تاج نے کہا کہ شہر میں آگ سے بچنے کیلئے جدید ٹیکنالوجی کو استعمال کرنا چاہیئے کیونکہ اب دنیا بھر میں اسی طرح آگ کے حادثات سے نمٹا جا رہا ہے۔ صدر این ایف ای ایچ محمد نعیم قریشی نے کہا کہ این ایف ای ایچ صوبائی حکومت کے ساتھ ملکر شہر میں صنعتوں، بلند عمارتوں اور دیگر جگہوں کو آگ سے بچائو کے اقدامات کرنے کیلئے بھر پور ساتھ دے گی۔