لیگی اراکین نے پنجاب اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں سے مستعفی ہونے کیلئے استعفے اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کر ادئیے

مسلم لیگ (ن) کاپیپلزپارٹی کے پارلیمانی لیڈر حسن مرتضیٰ سے بھی رابطہ ،قیادت سے مشاورت کے بعد آگاہ کریں گے

جمعرات نومبر 12:52

لیگی اراکین نے پنجاب اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں سے مستعفی ہونے کیلئے استعفے ..
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 14 نومبر2019ء) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے اراکین اسمبلی نے پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز کو پبلک اکائونٹس کمیٹی کا چیئرمین اور گرفتاری اراکین کے پروڈکشن آرڈر جاری نہ کرنے کے خلاف احتجاجاً پنجاب اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں سے مستعفی ہونے کیلئے اپنے استعفے اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کر ادئیے ۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنما ملک ندیم کامران ، چوہدری محمد اقبال ، سمیع اللہ خان اور دیگر نے پنجاب اسمبلی سیکرٹریٹ میں پیش ہو کر استعفے جمع کرائے ، مسلم لیگ (ن) نے پیپلزپارٹی کے پارلیمانی لیڈر حسن مرتضیٰ سے بھی رابطہ کیا جو قیادت سے مشاورت کے بعد آگاہ کریں گے ۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ملک ندیم کامران نے کہا کہ ایک سال سے زائد کا عرصہ گزرنے کے باوجود حکومت قائمہ کمیٹیوں کی تشکیل مکمل نہیں کر سکی اور حکومت کی نالائقی کی وجہ سے اب تک 40میں سے صرف 21قائمہ کمیٹیاں تشکیل پا سکی ہیں ۔

(جاری ہے)

ہمارے اس اقدام کے دورس نتائج ہوں گے ،آج کا دن پارلیمانی تاریخ میں سیاہ ترین دن ہے جب اتنی زیادہ تعداد میں ممبران قائمہ کمیٹیوں سے مستعفی ہوئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ حکومت پہلے ہی کام نہیں کررہی او ران کی نالائقی کی وجہ سے اب مزید پیچیدگیاں پیدا ہوں گی ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کو پبلک اکائونٹس کمیٹی کا چیئرمین مقرر نہیں کر رہی جبکہ اس کے علاوہ گرفتار اراکین کے پروڈکشن آرڈرز بھی جاری نہیں کئے جارہے جس پر احتجاجاً ہم نے یہ اقدام اٹھایا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے احتساب سے بچنے کیلئے پی اے سی ون کی بجائے پی اے سی ٹو تشکیل دیدی ہے جس کی سربراہی حکومت کے پاس ہے ،قانون سازی میں اپوزیشن کی آواز کو بلڈوز کیا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے عوام کا ساتھ دینا ہے تو وہ اسمبلی سے ہی ہوگا لیکن اسمبلی غیر قانونی طریقے سے نہیں چل سکتی ۔ سمیع اللہ خان نے کہا کہ نوازشریف کی صحت کیلئے دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں جلد صحت عطا فرمائے ۔

حکومت تین بار ملک کے وزیر اعظم رہنے والے شخص سے تاوان طلب کر رہی ہے اور یہ شرمناک باب ہے ،تاوان سے علاج کی اجازت قابل مذمت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے رویے کے خلاف (ن) لیگ کے اراکین نے قائمہ کمیٹیوں سے استعفے دیدئیے ہیں اور یہ پارلیمانی تاریخ کا سیاہ دن ہے ،سپیکر پرویز الٰہی سے گزارش ہے کہ وہ اسمبلی کو ڈیڈلاک سے باہر نکالیں گے ۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے مطالبے غیر جمہوری نہیں ،قائد حزب اختلاف کو 14ماہ کا عرصہ گزرنے کے باوجو د پی اے سی ون کی چیئرمین شپ نہیںدی گئی اور ہم نے مجبورا ًنتہائی اقدام اٹھایا ہے ،گرفتار رکن اسمبلی کیلئے پروڈکشن آرڈر نکالنے کے معاملے پر سپیکر اور حکومت نے کریڈٹ لینے کی کوشش کی ،علیم خان نے پروڈکشن آرڈر سے خوب فائدہ اٹھایا ،انہوں نے قائمہ کمیٹیوں کے اجلاس جو ہفتہ ہفتہ چلے ان میں شرکت کی لیکن اپوزیشن کے گرفتار اراکین سے امتیازی سلوک برتا گیا،حمزہ شہباز اور خواجہ سلمان رفیق سمیت کسی کے بھی پروڈکشن آرڈر جاری نہیں ہوئے ،ہم نے استعفے دیدئیے اب فیصلہ سپیکر نے کرنا ہے ۔

انہوں نے بتایا کہ پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر حسن مرتضی سے ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے اور وہ اپنی قیادت سے پوچھنے کے بعد فیصلہ کریںگے ،ہم پنجاب اسمبلی کے ہر اجلاس میں شریک ہوں گے، قائمہ کمیٹیوں کے بغیر قانون سازی کی اخلاقی اورقانونی ساکھ نہیں ہوگی ،حکومت اب ہر معاملے پر ون ویلنگ کررہی ہے جو خطرناک ثابت ہو گی ۔