بھارتی خاتون نے مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم کیخلاف امریکی ایوان میں بل پیش کر دیا

بھارت مقبوضہ کشمیر میں مواصلات کی بندش اور نظر بندیاں فوری طور پر ختم کرے: خاتون رکن پرامیلا جیا پال کا مطالبہ

Usman Khadim Kamboh عثمان خادم کمبوہ اتوار دسمبر 15:04

بھارتی خاتون نے مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم کیخلاف  امریکی ایوان ..
واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین ۔ 08 دسمبر2019ء) بھارتی خاتون نے مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم کیخلاف امریکی ایوان میں بل پیش کر دیا ہے، تفصیلات کے مطابق امریکی ایوان کی خاتون رکن پرامیلا جیا پال نے ایوان میں ایک بل پیش کیا ہے جس میاں انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں مواصلات کی بندش اور نظر بندیاں فوری طور پر ختم کرے۔

پرامیلا جیا پال کے پیش کردہ بل میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں تمام باشندوں کی مذہبی آزادی کا حق جلد بحال کرے،گزشتہ 30 سال میں مسئلہ کشمیر نے ہزاروں افراد کی جانیں لی ہیں۔ یاد رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں آج کرفیو کو نافذ ہوئے 126 دن ہو گئے ہیں، اس دوران وادی کی معیشت کو 150 ارب کا نقصان پہنچ چکا ہے، مسلسل کرفیو اور پابندیوں کے باعث مقبوضہ وادی میں نظام زندگی مفلوج ہے، تعلیمی ادارے، دکانیں، کاروباری مراکز، انٹرنیٹ، موبائل فون اور لینڈ لائن سروس تاحال بند ہے، حریت رہنما اور مقامی سیاسی قیادت سمیت 11 ہزار کشمیری گرفتار کیے جا چکے ہیں۔

(جاری ہے)

مقبوضہ کشمیر میں 5 اگست کوجموںوکشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کئے جانے کے بعد بھارتی فورسز کی سب سے زیادہ تعداد تعینات کردی گئی ہے۔کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق 5 اگست کومقبوضہ کشمیر میں بھارتی سینٹرل آرمڈ پولیس فورسز کی 430کمپنیاںتعینات ک تھیں جن میں سی آر پی ایف، بی ایس ایف، آئی ٹی بی پی، ایس ایس بی اور سی آئی ایس ایف شامل تھے۔ رپورٹ کے مطابق وادی کشمیر میں عام طورپر بھارتی فوج اور پولیس کے علاوہ سی اے پی ایف کی 200کمپنیاں تعینات رہتی تھیں۔

ہرکمپنی میں تقریباً100اہلکار ہوتے ہیں۔ اگست 2019ء سے پہلے مقبوضہ علاقے میں 230اضافی کمپنیاں پنچایتی اوربلدیاتی انتخابات کے لیے سکیورٹی کی آڑ میں تعینات کی گئیں جوستمبر 2018ء میں ہوئے تھے جس کے بعدمئی 2019ء میں لوک سبھا کے انتخابات اورامرناتھ یاترا کا بہانہ بناکر انہیں مسلسل تعینات رکھا گیا۔