زینب قتل کیس معاشرے پر قرض ہے جو ہم نے ادا کرنا ہے، بچوں کی حفاظت پی ٹی آ ئی حکومت کی اولین تر جیح ہے، زینب الرٹ بل قومی اسمبلی سے پاس ہو چکا ہے،

سینٹ کی منظوری کے بعدقانون کا حصہ بن جائے گا‘وفاقی وزیر منصوبہ بندی وترقی اسد عمرکا زینب کی دوسری برسی کے موقع پر قصور میں خطاب اور میڈیا سے گفتگو

جمعہ جنوری 19:24

زینب قتل کیس معاشرے پر قرض ہے جو ہم نے ادا کرنا ہے، بچوں کی حفاظت پی ..
لاہور۔24 جنوری(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 جنوری2020ء) وفاقی وزیر منصوبہ بندی وترقی اسد عمر نے کہا ہے کہ زینب قتل کیس معاشرے پر قرض ہے جو ہم نے ادا کرنا ہے، بچوں کی حفاظت پی ٹی آ ئی حکومت کی اولین تر جیح ہے، بد قسمتی سے معاشرے میںزینب قتل کیس کے علاوہ اور بھی اس طرح کے واقعات رونما ہو ئے ، صرف قانون بنانا کافی نہیں بلکہ حکمران، پولیس اور عوام کو بھی اپنی ذمہ داریوں کونبھانا ہو گا، زینب الرٹ بل سے مستقبل میں بچوں کو محفوظ کرنے میں مدد ملے گی، زینب الرٹ بل نیشنل اسمبلی سے پاس ہو چکا ہے جبکہ سینیٹ میں زیر بحث ہے‘اگر کوئی قتل کرتا ہے تو اس کو سزا ملنی چاہیے‘کے پی کے انتظامات میں تبدیلی آئی ہے‘ایسا دن بھی آیا ہے کہ پولیس کے حق میں جلوس نکلا‘نظام میں بہتری کے لیے جلد ایکشن لیا جائے گا۔

(جاری ہے)

وہ جمعہ کے روزمرحوم زینب کی دوسری برسی کے موقع پر قصور میں خطاب اور میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔ اس موقع پرصوبائی وزیر انسانی حقوق و اقلیتی امور اعجاز عالم آ گسٹین،پاکستان عوامی تحریک کے جنرل سیکرٹری خرم نواز گنڈا پور، عون چوہدری اور ڈی سی قصور بھی موجود تھے، وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان پولیس کے نظام کو بہتر کر کے دکھائیں گے‘نئے آئی جی کی ابتدائی پرفارمنس سے وزیر اعظم مطمئن ہیں‘پولیس کے نظام میں بہتری ہوئی ہے ،اپوزیشن کی حکومت پر تنقید جمہوریت کا حسن ہے‘اس معاشرے کا قرض ہے جو ہم نے ان کو ادا کر ناہے‘ایسے واقعات کو روکنے کے لیے عملی اقدامات کرنے کے ضرورت ہے‘مارچ 2018ء میں زینب الرٹ بل انفرادی حیثیت میں قومی اسمبلی میں پیش کیا‘تحریک انصاف نے اقتدار میں آنے کے بعد زینب الرٹ بل قومی اسمبلی سے پاس کروا لیا ہے‘زینب الرٹ بل اس وقت سینٹ میں ہے جس کی منظوری کے بعدقانون کا حصہ بن جائے گا‘وزیر اعلی پنجاب سے ملاقات میں زینب الرٹ بل زیر بحث آیا ہے‘امید ہے کہ وہ پنجاب میں بھی زینب الرٹ بل پاس کروائیں گے‘سند اور بلوچستان اور کے پی کے میں بھی بل پاس کروائیں گے‘صرف قانون بنانا کافی نہیں پولیس عدلیہ اور حکمرانوں کو مل کر اپنی ذمہ داری ادا کرنا ہوگی‘اس بل سے معاشرے میں بچوں کی حفاظت میں مدد ملے گی۔