ماہرین زراعت نے سیب کی جدید پیداواری ٹیکنالوجی سے استفادہ اور پیوند کاری کا عمل چھوٹے روٹ سٹاک کے ذریعے فروری و مارچ میں مکمل کرنے کی ہدایت کر دی

جمعہ فروری 13:57

فیصل آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 14 فروری2020ء) جامعہ زرعیہ فیصل آباد کے ماہرین زراعت نے سیب کی جدید پیداواری ٹیکنالوجی سے استفادہ اور پیوند کاری کا عمل چھوٹے روٹ سٹاک کے ذریعے فروری و مارچ میں مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے اورکہاہے کہ چونکہ سیب کی افزائش نسل بذریعہ پیوندکاری کی جاتی ہے اور عمومی طور پر چھوٹے سیب کے زیر بچے دسمبر میں اکھاڑ کر نرسری میں لگا دیئے جاتے ہیں جو فروری و مارچ میں پیوندکاری کے قابل ہو جاتے ہیںنیز چھوٹے سیب کاروٹ سٹاک بذریعہ بیج بھی تیار کیاجاتاہے اور سیب میں کلفٹ گرافٹنگ اور ٹی بڈنگ کے ذریعے صحیح النسل پودے کامیابی سے تیار کئے جاتے ہیں اور کلفٹ گرافٹنگ فروری میں جبکہ ٹی بڈنگ مون سو ن کی بارشوں کے بعد کرنے کے مثبت نتائج حاصل کئے جاسکتے ہیں۔

(جاری ہے)

ایک ملاقات کے دوران انہوںنے بتایاکہ موسم بہارکورے سے پاک ہونے اور فروری و مارچ میں خوابیدگی توڑنے سمیت پھول لانے کیلئے سیب کے پودے کو 7ڈگری سینٹی گریڈ سے کم درجہ حرارت کے ایک ہزار سے 1500 گھنٹے پرمحیط چلنگ آورز درکار ہوتے ہیں ۔ انہوںنے بتایاکہ سیب کے پودے کو مجموعی طورپر سالانہ 100 سے 150 سینٹی میٹر بارش کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہوںنے کہاکہ اگرچہ سیب میرازمین سے لے کر چکنی اقسام کی زمینوںمیں کاشت کیا جاسکتاہے مگر بہتر پیداوار کیلئے ذرخیز میرا زمین کاانتخاب کرناچاہیے جس میں پانی جذب کرنے کی بھرپور صلاحیت ، ہوا کا بہترین نکاس اور نامیاتی مادے وافرمقدار میں موجود ہونے کے علاوہ زمین کی پی ایچ کی حد 5.5 سے 6.5 تک ہو اورزمین سخت جبکہ زیر زمین تہہ سیم کے مسائل سے پاک ہو ۔

انہوںنے کہاکہ باغبان مزید رہنمائی کیلئے ماہرین زراعت کی خدمات سے استفادہ کرسکتے ہیں۔