پاکستان کی نوجوان نسل کی ویلنٹائنز ڈے پر رائے

نوجوان لڑکیوں کی اکثریت ویلنٹائنز ڈے کی مخالف،ویلنٹائنز ڈے ہمارے کلچر اور مذہب کا حصہ نہیں،اگر منانا ہی ہے تو والدین کو تحائف دے کر بھی منایا جا سکتا ہے،لڑکی کو گرل فرینڈ نہیں بیوی بنا کر عزت دینی چاہئیے

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان جمعہ فروری 16:31

پاکستان کی نوجوان نسل کی ویلنٹائنز ڈے پر رائے
لاہور (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔14فروری 2020ء) آج 14 فروری ہے یعنی ویلنٹائن کا تہوار، جو دْنیا بھر میں منایا جاتا ہے۔اس دن کو عام طور پر محبت کے اظہار کے طور پر عالمی سطح پر منایا جاتا ہے،اور اپنی محبوب شخصیات کے لیے تحفائف خریدے جاتے ہیں۔ پاکستان میں ویلنٹائنز ڈے کے حوالے نوجوان نسل میں مختلف رائے پائی جاتی ہے،کچھ کا خیال ہے کہ ویلنٹائنز ڈے کو منانا چاہئیے،بعض کا خیال ہے کہ نہیں منانا چاہئیے تاہم کچھ ایسے نوجوان لڑکے لڑکیاں ہیں جن کا خیال ہے کہ ویلنٹائنز ڈے صرف رومانوی تعلق کا نام نہیں ہے بلکہ اس دن ہم اپنے والدین،بہن بھائی یا دوستوں سے بھی اظہار محبت کر سکتے ہیں۔

نجی کالج کی طالبہ مشعال کا کہنا ہے کہ میرا خیال ہے کہ ویلنٹائنز ڈے کو منانا چاہئے،ضروری نہیں کہ یہ دن صرف جوڑے ہی منائیں بلکہ یہ دن تو اپنے گھر والوں کے ساتھ بھی منایا جا سکتا ہے۔

(جاری ہے)

ویلنٹائنز ڈے پر مجھے اپنی والدہ سے تحفے تحائف بھی ملتے ہیں۔ ویلنٹائنز ڈے کا نظریہ ان نوجوان لڑکے لڑکیوں کے لیے غلط کہا جاتا ہے جو غیر شادی شدہ ہو کر بھی اس دن ملتے ہیں کیونکہ یہ مذہبی اقدار کے خلاف ہے۔

ایک اور کالج طالبہ کا کہنا ہے کہ نوجوان نسل کے پاس نوکریاں نہیں ہیں اس لیے وہ ایسی چیزوں کی طرف جاتے ہیں۔
لڑکیوں کو یہ بات مدِنظر رکھنی چاہئیے کہ کسی کی گرل فرینڈ بننا قابل تحضیک ہے جب کسی کی بیوی بنانا باعثِ عزت ہے۔ایک اور طالبہ کا کہنا ہے کہ میرا نہیں خیال ویلنٹائنز ڈے کو منانا چاہئیے،اس وجہ سے ہماری نوجوان نسل خراب ہونے کے ساتھ ساتھ احساس کمتری کا شکار ہو رہی ہے۔اگر کسی لڑکے اور لڑکی کے درمیان قائم رشتہ ختم ہو جائے تو وہ خودکشی پر اتر ہوتے ہیں۔ہادیہ نامی طالبہ کا کہنا ہے کہ ویلنٹائنز ڈے ہمارے کلچر کا حصہ نہیں ہے۔نہ ہی ہمارا اسلام ہمیں ا سکی اجازت ہوتی ہے،اگر آپ کسی کو پسند کرتے ہیں تو اس کے لیے اسلام میں نکاح کا راستہ موجود ہے۔