سیکورٹی فورسز نے پنجاب میں لاک ڈاون کے فیصلے پر سختی سے عمل درآمد کروانا شروع کر دیا

لاہور کے مختلف علاقوں میں فوج کی جانب سے ناکے لگائے گئے ہیں، پابندیوں سے میڈیا کے افراد کو بھی استثناء نہیں دیا جا رہا، مجھے سزا کے طور پر آدھا گھنٹا سڑک پر کھڑا رکھا گیا، صحافیوں کو بھی اجازت نہیں دیں گے تو عوام کو کیسے آگاہ کریں: سینئر صحافی شاہد نذیر چودھری

muhammad ali محمد علی منگل مارچ 22:53

سیکورٹی فورسز نے پنجاب میں لاک ڈاون کے فیصلے پر سختی سے عمل درآمد کروانا ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 مارچ2020ء) سیکورٹی فورسز نے پنجاب میں لاک ڈاون کے فیصلے پر سختی سے عمل درآمد کروانا شروع کر دیا، سینئر صحافی شاہد نذیر چودھری کے مطابق لاہور کے مختلف علاقوں میں فوج کی جانب سے ناکے لگائے گئے ہیں، پابندیوں سے میڈیا کے افراد کو بھی استثناء نہیں دیا جا رہا، مجھے سزا کے طور پر آدھا گھنٹا سڑک پر کھڑا رکھا گیا، صحافیوں کو بھی اجازت نہیں دیں گے تو عوام کو کیسے آگاہ کریں۔

تفصیلات کے مطابق ملک بھر کی طرح پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں بھی پاک فوج کنٹرول سنبھال چکی ہے۔ حکومت پنجاب کی جانب سے 14 روزہ جزوی لاک ڈاون کا اعلان کیا گیا تھا، جس پر سختی سے عملدرآمد کروانا شروع کر دیا گیا ہے۔ اس حوالے سے اردو پوائنٹ سے وابستہ سینئر صحافی شاہد نذیر چودھری کی جانب سے اپنا ذاتی تجربہ بیان کرتے ہوئے لوگوں کو تلقین کی گئی ہے کہ وہ لاک ڈاون کے فیصلے کی پابندی کریں۔

(جاری ہے)



سینئر صحافی شاہد نذیر چودھری کا بتانا ہے کہ گھروں سے باہر نکلنے کی پابندی سے میڈیا کے لوگوں کو بھی  استثناء نہیں دیا جا رہا ہے۔ مجھے میڈیکل اسٹور سے واپسی پر پاک فوج کی جانب جناح ہسپتال کے قریب لگائے گئے ناکے پر روکا گیا۔ اس موقع پر مجھے بطور سزا آدھے گھنٹے کیلئے سڑک پر روکے رکھا گیا۔

سینئر صحافی کا بتانا ہے کہ جب انہوں نے ناکے پر موجود فوجی اہلکاروں سے سوالات کیے تو انہوں نے بہت پیار سے جواب دیا کہ انہیں ہدایت دی گئی ہے کہ سوائے ڈاکٹرز اور دیگر طبی عملے کے، کسی کو آزادانہ نقل و حرکت کی اجازت نہ دی جائے۔ یعنی میڈیا سے وابستہ لوگوں کو بھی آزادانہ نقل و حرکت کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ یہ فیصلہ عوام کے مفاد میں ہی لیا گیا ہے اور پاک فوج و دیگر سیکورٹی فورسز اس فیصلے پر عملدرآمد کروانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

سینئر صحافی شاہد نذیر چودھری نے عوام سے اپیل کی ہے کہ حالات واقعی خراب ہیں، اس لیے احتیاط کی جائے اور گھروں تک محدود رہا جائے۔ جبکہ حکومت سے بھی اپیل کی ہے کہ سزاوں اور سختی کے حوالے سے صحافیوں، بیمار افراد اور بزرگ شہریوں سے نرمی برتی جائے۔