ایک سگریٹ 15 منٹ زندگی کم کرتا ہے، تمباکو نوشی کرنے والے افراد صحت مند انسان کے مقابلے میں اپنی عمر کے دس سال کم کر دیتے ہیں،ڈاکٹر راجہ مہدی حسن

اتوار مئی 22:30

راولپنڈی ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 31 مئی2020ء) بے نظیر بھٹو ہسپتال راولپنڈی کے سینئر کنسلٹنٹ کارڈیالوجسٹ ڈاکٹر راجہ مہدی حسن نے کہا ہے کہ 31 مئی پوری دنیا میں تمباکو نوشی، سگریٹ، حقہ ، نسوار، چلم ، شیشہ ، پان اور گٹگا کے استعمال سے انسانی صحت پرپڑنے والے مضر اثرات سے آگاہی فراہم کرنے کا دن ہے، ایک سگریٹ 15 منٹ زندگی کم کرتا ہے، تمباکو نوشی کرنے والے افراد صحت مند انسان کے مقابلے میں اپنی عمر کے دس سال کم کر دیتے ہیں، انسداد تمباکو نوشی کے عالمی دن کے حوالے سے اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دنیا میں سالانہ ایک کروڑ افراد تمباکو نوشی سے جان کی بازی ہار جاتے ہیں جبکہ پاکستان میں تمباکو نوشی سے متاثرہ افراد کی اموات کی تعداد ایک لاکھ تک پہنچ چکی ہے جو تشویشناک ہے، انہوں نے کہا کہ نشہ آور اشیاء کے استعمال سے خصوصا نوجوان نسل میں امراض قلب ، انجائنہ ، ہارٹ اٹیک کا اضافہ ہو رہا ہے یہی وجہ ہے کہ گلے ، زبان ، پھیپھڑے ، جگر، معدہ ، انتڑیوں او ربچہ دانی کے کینسر کے مریضوں کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے، ڈاکٹر راجہ مہدی حسن نے مزید کہا کہ لگا تار سگریٹ پینے والا شخص اپنے علاوہ ساتھ بیٹھے دوسرے لوگوں کو بھی نقصان پہنچا تا ہے، انہوں نے حکومت کی طرف سے تمباکو نوشی اور شوگر پروڈکٹس پر سرچارج لگانے اورنشہ آور اشیاء کے استعمال اور تشہیر پر پابندی جیسے اقدامات کو سراہا۔