تمباکو نوشی سے متعلق قوانین سختی سے نافذ کیئے جائیں،کاشف مرزا

تمباکو کی صنعت پر ٹیکس برقرار رکھنا اچھا اقدام ہے، آن لائن مذاکرے میں شرکاء کا اظہار خیال

جمعرات جون 16:10

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 18 جون2020ء) سوسائٹی فور دی پروٹیکشن آف دی رائٹس آف دی چائلڈ کے آن لائن مذاکرے میں شرکاء نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ ملک میں تمباکو نوشی سے متعلق قوانین سختی سے نافذ کیئے جائیں تاکہ اس کے پھیلا کو روکا جاسکا اور شہریوں خصوصاً بچوں کو اس کے مضراثرات سے بچایا جاسکے۔ کمپئن فار تمباکو کراچی کے سربراہ اسپارک کے منیجر کمیونیکیشن کاشف مرزا نے کہا کہ پاکستان میں تمباکو کی صنعت عوامی صحت کے بدلے اپنے خزانے کو پر کرنے کے لئے پالیسی سازوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتی ہے جسکی وجہ سے ہر سال تمباکو کی مصنوعات استعمال کرنے سے 170,000 سے زائد افراد ہلاک ہوجاتے ہیں۔

اس حکومت کا شکریہ کہ وہ ان کے دبائو میں میں نہیں آئے اور تمباکو مصنوعات پر ٹیکس لگانے کی شرح کو برقرار رکھا۔

(جاری ہے)

انہوں نے مزید کہا کہ یہ بات غور طلب اور حیران کن ہے کہ ڈالر کی قیمت میں اضافے کا اثر ہر شعبہ پر پڑا مگر تمباکو مصنوعات کی قیمتیں وہی برقرار رہیں۔ سینئر جرنلسٹ ایم حسین بھٹی نے کہاکہ موجودہ مالی سال کے لئے تمباکو پر ٹیکس کو حتمی شکل دینے کے وقت حکومت کو افراط زر اور مہنگائی کی بڑھتی شرح کو مد نظر رکھنا چاہیے تھا جو نہیں کیا گیا۔

انسانی حقوق کی سرگرم کارکن سمائلہ مزمل نے کہا کہ تمباکو مصنوعات پر ٹیکس لگانے سے نہ صرف استعمال میں کمی ہوگی بچوں تک اس کی رسائی میں بھی کمی آئے گی ۔ مقصود وارنی نے کہا کہ صحت اور غربت کے بحران سے نمٹنے کے لئے تمباکو مصنوعات پر زیادہ سے زیادہ ٹیکس لگانا ہوگا۔ حارث جدون نے کہا کہ تمباکو کے نقصانات سے بچانے کیلئے ہمیں ابھی بہت کچھ کرنا ہے حکومت کو ثابت قدمی کے ساتھ قوانین پر سختی سے عمل کرانا ہوگا اور جدید طریقے اپنانے ہوں گے ۔