آن لائن ریڈی نیس کے حوالے سے ایچ ای سی نے کوئی درجہ بندی نہیں کی، ایچ ای سی

پیر جون 20:59

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 29 جون2020ء) ہائیر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے واضح کیا ہے کہ ادارے کی طرف سے آن لائن ریڈی نیس کے حوالے سے درجہ بندی کے لیے نہ جامعات کو پرکھا گیا ہے اور نہ ہی اُن کی کوئی درجہ بندی جاری کی گئی ہے۔ میڈیا میں مختلف جامعات کی جانب سے درجہ بندی سے متعلق جاری کردہ خبریں حقائق کے برعکس ہیں۔ ایچ ای سی نے جامعات کو آن لائن ریڈی نیس کی ذاتی رپورٹ تیار کرنے کا کہا ہے اور یہ ذاتی رپورٹنگ عوام کو دستیاب کی گئی ہے۔

کچھ جامعات کی جانب سے جس فہرست کا حوالہ دیا گیا ہے وہ محض اس بات کی عکاس ہے کہ جامعات کی طرف سے کتنی معلومات جمع کرائی گئی ہیں۔ تاحال 138جامعات نے اپنی معلومات جمع کرائی ہیںاور یہ معلومات آن لائن دستیاب ہیں، جبکہ باقی تقریباًً 30فیصد جامعات کوابھی اپنی معلومات جمع کرانی ہیں۔

(جاری ہے)

اِن معلومات کی آن لائن فراہمی کا مقصد جامعات کی درجہ بندی کی بجائے اُن کی مدد کرنا ہے تاکہ وہ اپنی کارکردگی کو بہتر بنا سکیں۔

مختلف جامعات سے متعلقہ فیصدی اعداد صرف جامعات کی طرف سے مخصوص تاریخ تک جمع کردہ معلومات کی مقدارکو بیان کرنے کے لیے ہیںاور یہ اعداد جامعات کی آن لائن ریڈی نیس کے معیار کی عکاسی نہیں کرتے۔جامعات سے اب تک جمع کردہ معلومات کے مطابق فیکلٹی اراکین طلباء کو 112,109میں سے 108,084آن لائن کورسز پڑھا رہے ہیں۔ کُل 42,392 فیکلٹی اراکین نے آن لائن تدریس کی تربیت حاصل کی ہے، یہ تعداد وباء کے آغاز سے طلباء کو آن لائن پڑھانے والے 48,851فیکلٹی اراکین کا 86.7فیصد ہے۔

اسی طرح متذکرہ 138جامعات میں سے 127کی طرف سے بتایا گیا ٖہے کہ اُنہوں نے اپنے طلباء کو ڈیجیٹل لائبریری کے ذرائع تک رسائی دینے کا آغاز کر دیا ہے۔ جامعات کی جانب سے معلومات کی مکمل فراہمی کے بعد ایچ ای سی اِن معلومات کو جانچے گا اور کسی بھی معیاری درجہ بندی کی تیاری کی صورت میں پریس کو آگاہ کیا جائے گا۔ جامعات سے درخواست ہے کہ وہ ایسا کوئی دعوٰی نہ کریں کہ ایچ ای سی نے جامعات کی درجہ بندی کی ہے یا اُنہیں لوازمات پر 100فیصد عمل پیرا پایا ہے۔ اخبارات سے بھی درخواست ہے کہ ایسی کسی بھی خبر کی اشاعت سے قبل ایچ ای سی تصدیق کرلیں۔